Al-Risala · November 2020 · page 40

معبود کی طلب

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۰، صفحہ ۴۰

معبود کی طلب

اندرن نکولائیف (Andriyan Grigoryevich Nikolayev) روس کا خلائی مسافر ہے۔ اس کی پیدائش 1929 میں ہوئی ، اور وفات 2004 میں ۔ 1962 میں اس نے پہلی مرتبہ خلا میں پرواز کیا۔ اس خلائی پرواز سے واپسی کے بعد 21 اگست 1962 کو ماسکو میں اس نے ایک پریس کانفرنس میں حصہ لیا۔ اس کانفرنس میں اس نے اپنا خلائی تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا: جب میں زمین پر اتراتو میرا جی چاہتا تھا کہ میں زمین کو چوم لوں۔

انسان جیسی ایک مخلوق کے لیے زمین پر جو بے حساب موافق سامان جمع ہیں، وہ معلوم کائنات میں کہیں بھی نہیں۔ روسی خلا باز جب زمین سے دور خلا میں گیا تو اس نے پایا کہ وسیع خلا میں انسان کے لیے صرف حیرانی اور سرگشتگی ہے۔ وہاں انسان کے سکون اور حاجت براری کا کوئی سامان نہیں۔ اس تجربے کے بعد جب وہ زمین پر اتراتو اس کو زمین کی قیمت کا احساس ہوا ، ٹھیک ویسے ہی جیسے شدید پیاس کے بعد آدمی کو پانی کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔ زمین اپنے تمام موافق امکانات کے ساتھ اس کو اتنی محبوب معلوم ہوئی کہ اس کا جی چاہا کہ اس سے لپٹ جائے اور اپنے جذبات محبت کو اس کے لیے نثار کر دے۔

یہی وہ چیز ہے جس کو شریعت میں الہ بنانا کہا گیا ہے۔ آدمی خالق کو نہیں دیکھتا، اس لیے وہ مخلوق کو اپنا الہ بنا لیتا ہے۔ مومن وہ ہے جو ظاہر سے گزر کر باطن تک پہنچ جائے، جو اس حقیقت کو جان لے کہ یہ جو کچھ نظر آرہا ہے یہ کسی کا دیا ہوا ہے۔ زمین میں جو کچھ ہے وہ سب کسی برتر ہستی کا پیدا کیا ہوا ہے۔ وہ مخلوق کو دیکھ کر اس کے خالق کو پالے اور خالق کو اپنا سب کچھ بنالے ۔ وہ اپنے تمام بہترین جذبات کو خدا کے لیے نثار کر دے۔

روسی خلا باز پر جو کیفیت زمین کو پا کر گزری وہی کیفیت مزید اضافہ کے ساتھ آدمی پر خدا کو پا کر گزرنا چاہیے۔ مومن وہ ہے جو سورج کو دیکھے تو اس کی روشنی میں خدا کے نور کو پالے ۔ وہ آسمان کی

‹ Previous page Next page › Contents of November 2020 All issues

Printed page