Al-Risala · November 2020 · page 42

معبود کی طلب

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۰، صفحہ ۴۲

الم کو محسوس کر کے لغو ہو گیا ٣١ ، تزخلق کر کار نا مردا ۳۱ اس کے خالق کے موجود خالق کو محسوس کیے بغیر نہ رہ سکا۔ اس نے تخلیق کے کارنامے میں اس کے خالق کو موجود پایا۔ ہماری موجودہ دنیا جس میں ہم رہتے ہیں، یہاں بھی ’’خدا کی موجودگی‘‘ کا تجربہ اسی طرح ہوسکتا ہے، جس طرح چاند پہنچ کر کرنل ارون کو ہوا۔ مگر لوگ موجودہ دنیا کو اس استعجابی نگاہ سے نہیں دیکھ پاتے، جس طرح چاند کا ایک نیا مسافر چاند کو دیکھتا ہے۔ اگر ہم اپنی دنیا کو اس نظر سے دیکھنے لگیں تو ہر وقت ہم کو اپنے پاس ’’خدا کی موجودگی‘‘ کا تجربہ ہو۔ ہم اس طرح رہنے لگیں جیسے کہ ہم خدا کے پڑوس میں رہ رہے ہیں اور ہر وقت وہ ہماری نظروں کے سامنے ہے۔

اگر ہم ایک اعلیٰ درجے کی مشین کو پہلی بار دیکھیں تو فی الفور ہم اس کے ماہر انجینئر کی موجودگی کو وہاں محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اسی طرح اگر ہم دنیا کو اور اس کی چیزوں کو گہرائی کے ساتھ دیکھ سکیں تو اسی وقت ہم وہاں خدا کی موجودگی کو پالیں گے۔ کائنات کی ہر تخلیق خالق کے وجود کی گواہی دیتی ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کی سب سے بڑی یافت یہ ہے کہ وہ خدا کو دیکھنے لگے، وہ اپنے پاس خدا کی موجودگی کو محسوس کرلے۔ اگر آدمی کا احساس زندہ ہو تو سورج کی سنہری کرنوں میں اس کو خدا کا نور جگمگاتا ہوا دکھائی دے گا، ہرے بھرے درختوں کے حسین منظر میں وہ خدا کا روپ جھلکتا ہوا پائے گا۔ ہواؤں کے لطیف جھونکے میں اس کو لَمْسِ ربانی (divine touch) کا تجربہ ہوگا۔ اپنی ہتھیلی اور اپنی پیشانی کو زمین پر رکھتے ہوئے اس کو ایسا محسوس ہوگا گویا اس نے اپنا وجود اپنے رب کے قدموں میں ڈال دیا ہے۔ خدا اپنی قدرت اور رحمت کے ساتھ ہر جگہ موجود ہے، بشرطیکہ دیکھنے والی نگاہ آدمی کو حاصل ہوجائے۔

یہ تمام مضامین نئی آنے والی کتاب خدا کی دریافت سائنس کی روشنی میں خدا پر ایمان کے منتخب مضامین پر مشتمل ہے۔

خدا کی دریافت سائنس کی روشنی میں خدا پر ایمان مولاناوحیدالدین خاں

‹ Previous page Next page › Contents of November 2020 All issues

Printed page