Al-Risala · November 2020 · page 47

ایگو فری شخصیت

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۰، صفحہ ۴۷

اس قسم کے طاق کا اس قدر سلیقہ سے بہت حصہ کو کوئی قاثل تو نہی؟

اس قسم کے واقعات کو وہ ایسے لیتے جیسے وہ کوئی قابلِ توجہ بات ہی نہ ہو۔ دوسرے الفاظ میں وہ اس طرح کے ناروا سلوک کو میدانِ دعوت کے ایک نارمل واقعہ کے طور پر لیتے تھے۔ بعد کے دور میں مسلم شخصیات کے پاس اور دینی اداروں میں آپ کو عمومی طور پر جو مقبولیت ملی آپ کی یہی ایگو فری شخصیت کا نتیجہ تھی۔ گویا کہ ان کا اصول یہ تھا کہ نہ کسی کی ایگو کو ہٹ کرو اور نہ ہی اپنی ایگو کو جاگنے دو“ وہ اس حکیمانہ فارمولا پر کار بند تھے جس کو انگریزی میں اس طرح کہا جاتا ہے: simple living, high thinking ریاض موسیٰ صاحب کی زندگی ایک سادہ اور بامقصد زندگی تھی۔ ان کی سادگی اور مقصَدیت زندگی بھر باقی رہی۔ یہاں تک کہ وہ اپنی طبعی عمر پوری کر کے 8 جون 2020 کی صبح کی اولین ساعتوں میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے، اور کالی کٹ کے ایک قبرستان میں اسی دن صبح کے گیارہ بجے سپردِ خاک کر دیے گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اور ہمارے سیئات کو حسنات میں بدل دے اور وہ خدائے ذوالجلال کی خوش نودی کا انعام پائیں۔ آمین۔ (مولانا فیاض الدین عمری، گلبرگہ، کرناٹک) اس دُور میں ماکان لاتے، پاس ہیں، میں وہ مایا کی سی مدّت میں رہ * جواہر لال نہرو کا واقعہ پنڈت جواہر لال نہرو (1964-1889) بھارت کے پہلے وزیر اعظم تھے۔ انھوں نے ایک بار کہا تھا کہ زندگی ایک نہایت پیچیدہ نظام ہے۔ ہم منصوبے بناتے ہیں، اور عمل کے نقشے مقرر کرتے ہیں۔ مگر کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ نتیجہ ہمارے سوچے ہوئے نقشہ کے مطابق نکلتا ہو۔ اکثر نامعلوم اسباب (unknown factors) ہمارے مفروضات پر بھاری ثابت ہوتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ مخفی طاقتیں ہیں، جو انسان کی تقدیر بناتی ہیں۔ ایک انسان جو خدا میں یقین نہ رکھتا ہو، وہ اتنا ہی کہہ سکتا تھا۔ مگر مذہب اس پر یہ اضافہ کرتا ہے کہ بلاشبہ ایسی ایک مخفی طاقت ہے، جو انسان کی تقدیر بناتی ہے، اور یہ مخفی طاقت خدا ہے۔ ر, ہے نہ مہذب۔ بن ہیں۔ ایک صاحب کون ہیں؟ نہیں میاں! رویہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 2020 All issues

Printed page