Al-Risala · November 2020 · page 49

دعوتی عمل کی منصوبہ بندی

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۰، صفحہ ۴۹

شیخ ریالو صاحب کے ذریعے سے میرے اندر دعوتی شعور پیدا ہوا، آپ کی تربیت اور صحبت کے نتیجے میں دعوت کو میں نے اپنی زندگی میں پرائمری کنسَرن بنایا۔ مگر میرے ذہن و دماغ میں دعوتی میدان کے اصولی اور علمی تقاضوں کے متعلق بہت سے سوالات تھے، مثلاً اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے میں کام کیسے کیا جائے، دور جدید کی نسبت سے دعوتی تقاضے کیا ہیں؟ اسی طرح یہ کہ سائنسی ایج میں علم وایمان کے اثبات میں جو دلائل وجود میں آئے ہیں ان کو دریافت کرنے کا ذہن، مدعو سے یک طرفہ خیر خواہی کرنا، غیر مسلم حضرات کے سارے ہی طبقات کے ساتھ صرف دعوتی سلوک کو صحیح سمجھنا، ملاء قوم کے ساتھ ناصحانہ رویہ اختیار کرنا، وغیرہ۔

یہ اور اس قسم کے اور بھی سوالات تھے، جن کے لیے مجھے رہنمائی کی ضرورت تھی۔ اللہ کے فضل سے الرسالہ مشن کے ذریعے اس کی تلافی ہوگئی۔ میں نے جس دعوتی جذبے کے تحت ریاض موسی صاحب کا ساتھ دیا تھا، اسی جذبے کے تحت میں نے الرسالہ مشن کو بھی اختیار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ شیخ ریا لو صاحب کی مغفرت فرمائے، اور ہم سب کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔ آمین۔ (مولانا سید اقبال احمد عمری ، عمر آباد، تامل ناڈو)

************* نامعلوم دنیا کا سفر موت کیا ہے، موت معلوم دنیا سے نامعلوم دنیا کی طرف چھلانگ ہے۔

موت ”اپنی دنیا‘‘ سے نکل کر دوسرے کی دنیا‘‘ میں جانا ہے۔ کیسا چونکا دینے والا ہے یہ واقعہ۔ مگر انسان کی یہ غفلت کیسی عجیب ہے کہ وہ اپنے چاروں طرف لوگوں کو مرتے ہوئے دیکھتا ہے، پھر بھی وہ نہیں چونکتا۔ حالاں کہ ہر مرنے والا زبان حال سے دوسروں کو بتا رہا ہے کہ جو کچھ مجھ پر گزرا یہی تمھارے اوپر بھی گزرنے والا ہے۔ وہ دن آنے والا ہے جب کہ وہ کامل بے بسی کے ساتھ اپنے آپ کو فرشتوں کے حوالے کردے۔ موت ہر آدمی کو اسی آنے والے دن کی یاد دلاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2020 All issues

Printed page