عقیدہ خدا اور سائنس
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۰، صفحہ ۸
نامعلوم حد تک وسیع کائنات میں ہمارا زمینی سیارہ ایک نادر استثنا ہے۔ یہاں پانی اور ہوا اور نباتات جیسی ان گنت چیزیں پائی جاتی ہیں جو انسانی زندگی کے لیے لازمی طور پر ضروری ہیں۔ جب کہ وسیع خلا میں معلوم طور پر کوئی بھی ایسی دنیا موجود نہیں جہاں بقائے حیات کا یہ سامان پایا جاتا ہو۔ یہ استثنا بتاتا ہے کہ یہ دنیا محض بے شعور مادہ کے ذریعہ نہیں بنی۔ بلکہ وہ ایک باشعور ہستی کا تخلیقی کرشمہ ہے۔ اگر وہ محض مادی قوانین کے بے شعور تعامل کا نتیجہ ہوتی تو کائنات میں بہت سی ایسی زمینیں ہوتیں، نہ صرف ایک ایسی زمین۔
ہماری دنیا کی ہر چیز انتہائی حد تک با معنی ہے۔ چیزوں کی معنویت یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ دنیا ایک باشعور تخلیق کا نتیجہ ہے۔ کوئی دوسرا نظریہ اس حکمت اور معنویت کی توجیہہ نہیں کر سکتا۔ مثلاً زمین کے حجم (size) کو لیجیے۔ زمین کا موجودہ حجم تقریباً 25 ہزار میل کی گولائی میں ہے۔ یہ حجم بے حد معنی ہے۔ چنانچہ یہ حجم اگر 50 ہزار میل ہوتا تو زمین کی کشش اتنی زیادہ بڑھ جاتی کہ وہ انسانی جسم کی بڑھوتری کو روک دیتی۔ اس کے بعد زمین پر صرف بالشتیے قسم کے انسان (dwarf) دکھائی دیتے۔ اس کے برعکس اگر زمین کا حجم گھٹ کر 12 ہزار میل ہوتا تو اس کی قوت کشش اتنی کم ہو جاتی کہ وہ انسانی بڑھوتری کو روک نہ سکتی۔ انسان کا قدٹاڑ (palm) کی طرح لمبا ہو جاتا۔ اس کے سوا اور بے شمار قسم کے غیر موافق حالات پیدا ہوتے جو انسان کی تمام تمدنی ترقیوں کو ناممکن بنا دیتے۔ مذکورہ پہلوؤں پر غور کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ سائنسی اعتبار سے، یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ اس دنیا کا ایک خالق ہے، اور وہ یقینی طور پر صرف ایک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں ہمارے لیے جو انتخاب ہے، وہ باخدا کائنات (universe with God) اور بے خدا کائنات (universe without God) میں نہیں ہے۔ بلکہ ہمارے لیے حقیقی انتخاب باخدا کائنات (universe with God) اور غیر موجود کائنات (no universe at all) میں ہے۔ یعنی اگر ہم خدا کے وجود کا انکار کریں تو ہم کو کائنات کے وجود کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ چوں کہ ہم کائنات کے وجود کا انکار نہیں کر سکتے اس لیے ہم خدا کے وجود کا بھی انکار نہیں کر سکتے۔ اس معاملے میں ہمارے لیے دوسرا ممکن انتخاب موجود نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2020 All issues