Tazkirul Quran (Urdu) · Hud (Hud)

Tazkirul Quran, Qur’an 11:57–60

Hud (Hud)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

جو لوگ خدا کی بات کو نظر انداز کردیں، خدا بھی انھیں نظر انداز کردیتا ہے۔ یہ واقعہ جو موجودہ دنیا میں جزئی طورپر پیش آتا ہے یہی قیامت میں کلی اور آخری طورپر پیش آئے گا۔ اس وقت تمام سرکش لوگ خدا کی رحمتوں سے دور کردیے جائیں گے۔ اور خدا کی رحمت صرف ان لوگوں کا حصہ ہوگی جو دنیا کی زندگی میں خدا کے تابع اور وفادار بن کررہے تھے۔

اس دنیا میں خدا نے ’’استخلاف‘‘ کا اصول رائج کیا ہے۔ یعنی ایک قوم کو ہٹانے کے بعد دوسری قوم کو اس کی جگہ زمین پر متمکن کرنا۔ دنیا میں یہ تمکن امتحان کی غرض سے وقتی طور پر ہوتا ہے۔آخرت میں خدا کی معیاری دنیا میں یہ تمکن انعام کے طورپر مستقل طور پر سچے اہل ایمان کو حاصل ہوگا۔

موجودہ امتحانی دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنا ہے کہ یہاں آدمی ہمیشہ خیر اور شر کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کو آزادی ہوتی ہے کہ دونوں میں سے جس راہ کو چاہے اختیار کرے۔ مزید یہ کہ اکثر حالات میں اس دنیا میں شر کا غلبہ ہوتا ہے۔ خیر کی جانب صرف نشانیوں (نظری دلائل) کا زور ہوتاہے۔ دوسری طرف شر کی جانب مادی طاقت موجود ہوتی ہے، وہ بھی اتنی بڑی مقدار میں کہ اس کے علم بردار سرکشی اور گھمنڈ میں مبتلا ہوکر ماحول کے اندر ایسی دباؤ کی فضا پیدا کرتے ہیں کہ عام آدمی حق کی طرف بڑھنے کی جرأت ہی نہ کرے۔

حضرت صالح نے اپنی قوم کو ایک خدا کی عبادت کی طرف بلایا۔ یہی ہر زمانہ میں تمام پیغمبروں کا مقصد تھا۔ مگر حضرت صالح کی قوم آپ کے پیغام کو قبول نہ کر سکی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ اس کو براہِ راست خدا سے جوڑنے کی بات کرتے تھے، جب کہ قوم کا حال یہ تھا کہ وہ خدا کے نام پر صرف اپنے اعاظم واکابر سے جڑی ہوئی تھی۔

ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مخصوص مزاج کی وجہ سے کسی چیز کی اہمیت اور معنویت صرف اس وقت سمجھ پاتے ہیں جب کہ ان کے قومی بزرگوں کے قول وعمل میں اس کی تصدیق مل جائے۔ اب چونکہ حضرت صالح کے پاس صرف دلیل کا زور تھا، ان کی قوم ان کی بات کی اہمیت کو محسوس نہ کرسکی۔ حضرت صالح جس دین کی طرف بلارہے تھے اس کی اہمیت خدا کی وحی اور زمین و آسمان کی نشانیوں میں غور کرنے سے واضح ہوتی تھی۔ جب کہ ان کی قوم صرف اس دین کی اہمیت سے باخبر تھی جو اکابر قوم کے ملفوظات اور معمولات سے ثابت ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی قوم آپ کے دلائل کے مقابلہ میں لاجواب ہو کر بھی بس ایک قسم کے شبہ کی حالت میں پڑی رہی۔

حضرت صالح، دوسرے تمام پیغمبروں کی طرح، شخصیت اور ذہانت میں اپنی قوم کے ممتاز فرد تھے۔ لوگ امید رکھتے تھے کہ بڑے ہو کر وہ قوم کے ایک کار آمد فرد ثابت ہوں گے۔ مگر وہ بڑی عمر کو پہنچے تو انھوں نے قوم کے مروجہ مذہب پر تنقید شروع کردی۔ یہ دیکھ کر قوم کے لوگوں کو ان کے بارے میں سخت مایوسی ہوئی۔ انھوں نے کہا، ہم تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ تم ہمارے قائم شدہ مذہبی نظام کے ایک ستون بنو گے۔ اس کے برعکس ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ تم ہمارے مذہبی نظام کو بے بنیادثابت کرنے پر اپنا سارا زور لگائے ہوئے ہو — یہی معاملہ ہر دور میں خدا کے سچے داعیوں کو اپنی قوم کی طرف سے پیش آیا ہے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page