Tazkirul Quran, Qur’an 13:6
Thunder (Al-Ra‘d)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے لوگوں سے کہتے تھے کہ خدا کی ہدایت کو مانو ورنہ تم خدا کی پکڑ میں آجاؤ گے۔ اس کے جواب میں انھوں نے کہا ’’خدایا، محمدجو کچھ پیش کررہے ہیں اگر وہ حق ہے تو تو ہمارے اوپر آسمان سے پتھر برسا‘‘۔ یہ دعا بظاہر خدا سے تھی مگر حقیقۃً اس کا رخ رسول کی طرف تھا۔ آپ اس وقت مکہ کے لوگوں کو بالکل بے وزن معلوم ہوتے تھے۔ ان کو یقین نہیں آتا تھا کہ ایسے معمولی آدمی کے انکار پر خدا ہمیں سزا دے گا۔ ’’محمد‘‘ کے انکار پر عذاب آنا ان کو اتنا بعید از وقوع نظر آتا تھاکہ وہ بطور استہزا کہتے تھے کہ تم جس خدائی عذاب کی دھمکی دے رہے ہو، ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے اوپر آجائے۔
فرمایا کہ تمھارے انکارِ حق کے سبب سے تمھارے اوپر خدا کا عذاب تو آنے ہی والا ہے۔ یہ صرف تمھاری بدبختی ہے کہ تم اس کو جلد بلانا چاہتے ہو۔ حالاں کہ تم کو چاہیے تھا کہ اس وقفہ کو دعوتِ قرآن پر غور وفکر اوراس کی قبولیت میں استعمال کرو نہ کہ عذاب کو قبل از وقت بلانے میں۔
لوگ چاہتے ہیں کہ خدا کے عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں پھر اس کو مانیں۔ مگر یہ صرف اندھے پن کا مطالبہ ہے۔ اگر ان کے پاس آنکھیں ہوں تو جو کچھ دوسروں کے ساتھ پیش آیا وہی ان کے سبق کے لیے کافی ہے۔ ان سے پہلے کتنی قومیں گذر چکی ہیں جنھوں نے انھیں کی طرح اپنے زمانے کے پیغمبروں کو جھٹلایا اور بالآخر انھیں اس کی سزا بھگتنی پڑی۔
خداکا قانون یہ ہے کہ وہ انسان کو عمل کی مہلت دیتاہے۔ یہی قانون مہلت ہے جس نے لوگوں کو سرکش بنا رکھا ہے۔ مگر مہلت کی ایک حد ہے۔ اس حد کے بعد جو چیز ان کا انتظار کررہی ہے وہ صرف دردناک عذاب ہے جس سے وہ اپنے آپ کو بچا نہ سکیں گے۔