Tazkirul Quran (Urdu) · Abraham (Ibrahim)

Tazkirul Quran, Qur’an 14:18–20

Abraham (Ibrahim)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

عرب کے جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا وہ سب خداا ور مذہب کو ماننے والے لوگ تھے۔ پھر کیوں وہ آپ کے منکر بن گئے۔ ا س کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی سطح پر حق اپنی مجرد صورت میں ظاہر ہوا تھا۔ جب کہ وہ لوگ صرف اس چیز کو حق سمجھتے تھے جو ان کے قومی بزرگوں کے ذریعہ انھیں ملا ہو۔ انھوں نے اپنے مسلّم قومی بزرگوں کے دین کو پہچانا، مگر وہ ’’محمد بن عبد اللہ‘‘ کے دین کو پہچاننے میں ناکام رہے۔

جو لوگ قومی روایات کے زیرِ اثر دین کو پائیں ان کے یہاں بھی دینی مظاہر موجود ہوتے ہیں۔ بلکہ اکثر ان کے یہاں دین کی دھوم پائی جاتی ہے۔ تاہم یہ سب کچھ محض ظاہری دینداری ہوتی ہے، دین کی اصل حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مگر خدا کو جو چیز مطلوب ہے وہ حقیقی دینداری ہے، نہ کہ ظاہری ہنگامے۔

خدا کووہ انسان مطلوب ہے جس نے ذاتی شعور کی سطح پر حق کو پایا ہو۔ جس نے عالم غیب میں خدا کا مشاہدہ کیا ہو۔ جس نے حق کو اس کی مجرد صورت میں پہچانا ہو اور اس کا ساتھ دیا ہو۔ جس کی روح خدا کے سمندر میں نہائی ہو۔ جو خدا کی محبت میں تڑپا ہو اور خدا کے خوف سے جس کی آنکھوں نے آنسو بہائے ہوں۔

پہلی قسم کے لوگوں کی دینداری اوپری دین داری ہے۔ قیامت کی آندھی اس کو اسی طرح اڑا لے جائے گی جس طرح سطحِ زمین کی خس وخاشاک تیز ہوا میں اڑجاتی ہے۔ اس کے برعکس، دوسری قسم کے لوگوں کا دین حقیقی دین ہے۔ وہ انسانی وجود کی آخری گہرا ئی تک پیوست ہوتاہے۔ ایسے وجود کے لیے آندھی صرف اس لیے آتی ہے کہ وہ اس کی مضبوطی کو ثابت کرے، نہ کہ اس کو اکھاڑ لے جائے۔

کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کی تخلیق حقائق پر ہوئی ہے۔ ایسی کائنات میں صرف حقیقی عمل کی قیمت ہوسکتی ہے، نہ کہ مفروضوں اور خوش گمانیوں کی۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page