Tazkirul Quran, Qur’an 15:72–77
The Rocky Tract (Al-Hijr)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
قوم لوط کا یہ حال کیوں ہوا کہ وہ سرکشی میں آپے سے باہر ہوگئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے معاملہ کو حضرت لوط کی نسبت سے دیکھا۔ چونکہ وہ حضرت لوط کے مقابلہ میں طاقت ور تھے۔ اس لیے انھوں نے سمجھا کہ ہم جو چاہیں کریں، کوئی ہمارا کچھ بگاڑنے والا نہیں۔
اگر وہ معاملہ کو اللہ کی نسبت سے دیکھتے تو صورت حال بالکل برعکس ہوتی۔ اب ان کو معلوم ہوتا کہ ان کی سرکشی سراسر مضحکہ خیز ہے۔ کیوں کہ خداکے مقابلہ میں کسی بھی طاقت ور کی کوئی حیثیت نہیں۔ چنانچہ عین صبح کو ان پر کڑک چمک کا شدید طوفان آیا۔ خدا نے ہواؤں کوحکم دیا اور انھوں نے قوم لوط کی بستیوں (سدوم اور عمورہ) پر کنکریوں کی بارش شروع کردی۔ قوم کی قوم تھوڑی دیر میں تباہ ہو کر رہ گئی۔
اس واقعہ میں غور کرنے والوں کے لیے یہ نصیحت ہے کہ اس دنیا میں کسی کا سابقہ حقیقۃً انسان سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔ اگر آدمی اس حقیقت کو جان لے تو اس کی ساری سرکشی ختم ہوجائے۔ ’’بے شک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں ( متوسمین) کے لیے۔‘‘ تو سم کامطلب ہے،مادی تجربات کو اللہ کی معرفت میں ڈھال لینا۔یعنی ظاہری چیزوں میں علامتیں دیکھ کر اس سے عارفانہ حقیقتوں کو دریافت کرنا۔ واقعات کے اندر چھپے ہوئے مختلف اسباق (lessons)کو دریافت کرنا ۔