Tazkirul Quran (Urdu) · Bees (Al-Nahl)

Tazkirul Quran, Qur’an 16:45–47

Bees (Al-Nahl)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

یہ آیت مکی دور کے آخری زمانہ کی ہے جب کہ مکہ کے مخالفین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازشیں کررہے تھے۔ پیغمبر خدا کی زمین پر خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس لیے پیغمبر کے خلاف اس قسم کی سازش کرنا ایسے ہی لوگوں کا کام ہوسکتا ہے جو خدا کی پکڑ سے بالکل بے خوف ہوچکے ہوں۔

حالاں کہ خدا انسان کے اوپر اتنا زیادہ قابو یافتہ ہے کہ وہ چاہے تو انسان کو زمین میں دھنسا دے یا جس مقام کو آدمی اپنے لیے محفوظ سمجھے ہوئے ہے وہیں سے اس کے لیے ایک عذاب پھٹ پڑے۔ یا خدا ایسا کرے کہ لوگوں کی سرگرمیوں کے دوران انھیں پکڑ لے، پھر وہ اپنے آپ کو اس سے بچا نہ سکیں۔ خدا یہ بھی کرسکتا ہے کہ وہ اس طرح انھیں پکڑے کہ وہ خطرے کو محسوس کررہے ہوں اور اس کے لیے پوری طرح بیدار ہوں۔

غرض خدا ہر حالت میں انسان کو پکڑ سکتاہے۔ اگر وہ لوگوں کو شرارتیں کرتے دیکھتاہے اور اس کے باوجود وہ ان کو نہیں پکڑتا تو لوگوں کو بے خوف نہیں ہونا چاہیے۔ کیوں کہ یہ اس کی مصلحت امتحان ہے، نہ کہ اس کا عجز۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page