Tazkirul Quran (Urdu) · Bees (Al-Nahl)

Tazkirul Quran, Qur’an 16:77

Bees (Al-Nahl)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

پیغمبر کو خدا اپنی خصوصی توجہ کے ذریعہ اس شاہراہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے جوحق کی شاہراہ ہے اور جو براہِ راست خدا تک پہنچانے والی ہے۔ پیغمبر اور اس کے ساتھی اس شاہراہ پر خود چلتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کی طرف رہنمائی دیتے ہیں۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو پیغمبر کے راستے کے سوا دوسرے راستوں کی طرف بلاتے ہیں۔ ان کی مثال اندھے بہرے کی ہے۔ ان کے پاس کان نہیں کہ وہ خدا کی آوازوں کو سنیں، ان کے پاس آنکھ نہیں کہ ا س کے ذریعہ خدا کے جلوؤں کو دیکھیں۔ ان کے اندر وہ قلب ودماغ نہیں کہ وہ کائنات میں پھیلی ہوئی خدائی نشانیوں کو پالیں۔

سمع وبصر وفواد اس لیے دئے گئے تھے کہ ان کے ذریعہ آدمی مخلوقات کے آئینہ میں خالق کا جلوہ دیکھے۔ مگر انسان نے ان کا استعمال یہ کیا کہ وہ خود مخلوقات میں اٹک کر رہ گیا۔

عالم ظاہر کے پیچھے ایک غیبی نظام ہے۔ یہ غیبی نظام خدا کا قائم کیا ہوا ہے۔ اپنی محدودیت کی وجہ سے اگر چہ ہم اس غیبی نظام کو نہیں دیکھتے مگر خود اس غیبی نظام پر ہماری ہر چیز بالکل کھلی ہوئی ہے۔ خدا غیب میں رہ کر ہر آن اپنی دنیا کی ہر چھوٹی بڑی چیز کو دیکھ رہا ہے۔ اس کو ہر بات کا صحیح ترین اندازہ ہے۔ خدا جب فیصلہ کرے گا کہ اب انسان کے امتحان کی مدت تمام ہوچکی ہے، عین اس وقت وہ اشارہ کرے گا اور اس کے بعد پلک جھپکتے میں موجودہ نظام یک لخت ٹوٹ جائے گا اور نیا نظام بالکل مختلف بنیادوں پر قائم ہوگاتاکہ ہر ایک کو اس اصل مقام پر پہنچا دیا جائے جہاں وہ باعتبار واقعہ تھا، نہ کہ اس مقام پر جہاں وہ مصنوعی طورپر اپنے آپ کو بٹھائے ہوئے تھا۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page