Tazkirul Quran (Urdu) · Bees (Al-Nahl)

Tazkirul Quran, Qur’an 16:79–80

Bees (Al-Nahl)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

پرندوں کا فضا میں اڑنا قدرت کی ایک عظیم منصوبہ بندی کے تحت ممکن ہوتاہے۔ پرواز کے مقصد کے لیے پرندوں کی نہایت موزوں بناوٹ، جس کی مشینی نقل ہوائی جہاز کی صورت میں کی گئی ہے۔ زمین کے اوپر ہوا جو پرندوں کے لیے ایسی ہی ہے جیسے کشتی کے لیے سمندر۔ زمینی کشش کی وجہ سے ہوا کا مسلسل زمین کے اوپر قائم رہنا وغیرہ۔ یہ اعلیٰ انتظامات اگر نہ ہوں تو فضا میں پرندوں کا اڑنا ممکن نہ ہوسکے۔

اس واقعہ کو گہری نظر سے دیکھا جائے تو آدمی کو ایسا معلوم ہوگا کہ گویا وہ خدا کو اپنی کائنات میں عمل کرتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔ وہ تخلیقی نظام کے اندر اس کے خالق کو پا جائے گا۔ وہ مصنوعات کے درمیان صانع کا جلوہ دیکھ لے گا۔

یہی معاملہ خود انسان کا ہے۔ گھر آدمی کے لیے سکون کا مقام ہے۔ لیکن گھر کیسے بنتا ہے۔ خدا کے بہت سے انتظامات ہیں جن کی وجہ سے زمین پر ایک گھر کا قیام ممکن ہوتاہے۔ وہ تمام تعمیری اجزاء جن کے ذریعے ایک مکان بنتا ہے، پیشگی طورپر ہماری دنیامیں رکھ دئے گئے ہیں۔ زمین میں نہایت مناسب مقدار میں قوت کشش ہے جس کی وجہ سے مکانات زمین کی سطح پر جمے کھڑے ہوتے ہیں۔ ایسا نہ ہوتو ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑتی ہوئی زمین کے اوپر مکانات اڑ جائیں۔اسی طرح وہ چیزیں جن سے آدمی ہلکے پھلکے خیمے بناتا ہے اور وہ چیزیں جن میں یہ صلاحیت ہے کہ انسان کے لباس کی صورت میں ڈھل جائیں اور اس کی زینت کا اور موسموں میں اس کی جسمانی حفاظت کا کام دیں۔

اس طرح کی تمام چیزیں اس لیے ہیں کہ آدمی کے اندر اپنے رب کی نعمتوں پر شکر کا جذبہ بیدار ہو، وہ اس کی عظمت وقدرت کے احساس سے اس کے آگے گر پڑے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page