Tazkirul Quran (Urdu) · Bees (Al-Nahl)

Tazkirul Quran, Qur’an 16:9

Bees (Al-Nahl)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنے کے لیے متعین سڑک ہوتی ہے جو سیدھی منزل تک پہنچاتی ہے۔ سواریاں اپنی منزل مقصود کے مطابق انھیں سیدھی سڑکوں پر چلتی ہیں۔ تاہم ان سڑکوں کے علاوہ اطراف میں بھی راستے اور پگڈنڈیاں ہوتی ہیں۔ اگر کوئی شخص ان متفرق راستوں کو راستہ سمجھ کر ان پر چل پڑے تو وہ کبھی اپنی مطلوبہ منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ وہ اصل منزل کے دائیں بائیں بھٹک کر رہ جائے گا۔

یہی معاملہ خدا تک پہنچنے کا بھی ہے۔ خدانے انسان کو واضح طورپر بتادیا ہے کہ وہ کون سا راستہ ہے جو اس کو خدا تک پہنچانے والا ہے۔ یہ راستہ توحید اور تقویٰ کا راستہ ہے۔ جو شخص اس راستہ کو اختیار کرے گا وہ خدا تک پہنچے گا اور جو شخص دوسرے راستوں پر چلے گا وہ اِدھر اُدھر بھٹک جائے گا۔ وہ کبھی اپنے رب تک نہیں پہنچ سکتا۔

دنیا میں ہر چیز خداکے مقرر کیے ہوئے راستے پر چلتی ہے۔ خدا اگر چاہتاتو اسی طرح انسان کو بھی ایک مقرر راستہ کا پابند بنا دیتا۔ مگر انسان کا تخلیقی منصوبہ دوسری اشیاء کے تخلیقی منصوبہ سے مختلف ہے۔ دوسری اشیاء سے صرف پابندی مطلوب ہے۔ مگر انسان سے جو چیز مطلوب ہے وہ اختیاری پابندی ہے۔ اسی اختیاری پابندی کا موقع دینے کا یہ نتیجہ ہے کہ کوئی شخص سچے راستے پر چلتا ہے اورکوئی اس کو چھوڑ کر خود ساختہ راہوں میں بھٹکنے لگتاہے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page