Tazkirul Quran, Qur’an 17:29–30
The Night Journey (Al-Isra’)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
اسلام ہر معاملہ میں اعتدال کو پسند کرتاہے۔ زیادتی اور کمی سے بچ کر جو درمیانی راستہ ہے وہی اسلام کے نزدیک بہترین راستہ ہے (خَيْرُ الأُمُورِ أَوْسَاطُهَا) السنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر 6319۔چنانچہ یہی تعلیم خرچ کے معاملہ میں بھی دی گئی ہے کہ آدمی نہ تو ایسا کرے کہ اتنا بخیل ہو کہ وہ لوگوں کی نظروں سے گرجائے۔ اور نہ اتنا زیادہ خرچ کرے کہ اس کے بعد بالکل خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ رہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ جس نے میانہ روی اختیار کی وہ محتاج نہیں ہوا (مَا عَالَ مَنِ اقْتَصَدَ) مسند احمد، حدیث نمبر 4269 ۔
مال کے سلسلہ میں بے اعتدالی کا ذہن اکثر اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ آدمی کی نظر سے یہ حقیقت اوجھل ہوجاتی ہے کہ دینے والا خدا ہے۔ وہی اپنے مصالح کے تحت کسی کو کم کردیتاہے اور کسی کو زیادہ ۔ حدیث قدسی میں آیا ہے کہ میرے بندوںمیں کوئی ایسا ہے جس کے لیے صرف محتاجی مناسب ہے۔ اگر میں اس کو غنی کردوں تو اس کے دین میں بگاڑ آجائے۔ اور میرے بندوں میں کوئی ایسا ہے جس کے لیے صرف امیری مناسب ہے۔ اگر میں اس کو فقیر بنادوں تو اس کے دین میں بگاڑ آجائے (إِنَّ مِنْ عِبَادِي الْمُؤْمِنِينَ مَنْ لَا يُصْلِحُ إِيمَانَهُ إِلَّا الْغِنَى ،لَوْ أَفْقَرْتُهُ لَأَفْسَدَهُ ذَلِكَ ، وَإِنَّ مِنْ عِبَادِي الْمُؤْمِنِينَ مَنْ لَا يُصْلِحُ إِيمَانَهُ إِلَّا الْفَقْرُ،لَوْ أَغْنَيْتُهُ لَأَفْسَدَهُ ذَلِكَ) بحر الفوائدللکلاباذی، حدیث نمبر 671۔