Tazkirul Quran, Qur’an 17:82
The Night Journey (Al-Isra’)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
قرآن خالص سچائی کا اعلان ہے۔ خالص سچائی جب پیش کی جاتی ہے تو ان تمام لوگوں پر اس کی زد پڑتی ہے جو یا تو سچائی سے خالی ہوں یا ملاوٹی سچائی لیے ہوئے ہوں۔ اب جو لوگ حقیقت پسند ہیں ان کے سامنے جب خالص سچائی آتی ہے تو وہ سچائی کو معیار بناتے ہیں، نہ کہ اپنی ذات کو۔ وہ اپنے آپ کو سچائی پر ڈھال لیتے ہیں، نہ یہ کہ خود سچائی کو اپنے اوپر ڈھالنے لگیں۔ اس طرح ان کی سنجیدگی اور حقیقت پسندی قرآن کو ان کے لیے رحمت بنادیتی ہے۔
دوسرے لوگ وہ ہیں جن کے اندر اپنی بڑائی کا احساس چھپا ہوا ہوتا ہے۔ ان کے سامنے جب بے آمیز سچائی آتی ہے تو اپنی مخصوص نفسیات کی بنا پر ان کا ذہن الٹے رخ پر چل پڑتا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچ پاتے کہ ’’اگر میں سچائی کو اختیار کرلوں تو میں سچا بن جاؤں گا‘‘۔ اس کے بجائے وہ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ ’’اگر میں نے سچائی کو مانا تو میں چھوٹا ہوجاؤں گا‘‘۔ وہ جانے والی چیز کی حفاظت میں رہنے والی چیز کو کھو دیتے ہیں۔ وہ اپنی بڑائی کو قائم رکھنے کی خاطر سچائی کو چھوٹا کرنے پر راضی ہوجاتے ہیں۔