Tazkirul Quran, Qur’an 17:85
The Night Journey (Al-Isra’)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
یہاں روح سے مراد وحی الٰہی ہے۔ عرب کے جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا، وہ وحی والہام کے منکر نہ تھے۔ اس سوال کا رخ ان کے نزدیک رسول اللہ کی بے خبری کی طرف تھا، نہ کہ حقیقۃً اپنی بے خبری کی طرف۔
یہ وہ زمانہ تھا جب کہ رسول اللہ کے گرد عظمت کی تاریخ نہیں بنی تھی۔ لوگوں کو آپ محض ایک عام انسان نظر آتے تھے۔ چوں کہ انھیں یقین نہیں تھا کہ خدا کا فرشتہ آپ کے پاس خدا کی وحی لے کر آتا ہے۔ اس لیے انھوں نے آپ کا مذاق اڑانے کے لیے یہ سوال کیا۔
تاہم اس سوال کے جواب میں قرآن میں ایک اہم اصولی بات بتادی گئی۔ وہ یہ کہ انسان کو صرف ’’علم قلیل‘‘ دیاگیا ہے، وہ ’’علم کثیر‘‘ کا مالک نہیں ہے۔ اس لیے حقیقت پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ان سوالات میں نہ الجھے جن کو وہ اپنی پیدائشی کم علمی کی بنا پرجان نہیں سکتا۔
قدیم زمانہ میں انسان صرف آنکھ کے ذریعہ چیزوں کو دیکھ سکتاتھا۔ تاہم بصری مطالعہ نے بتایا کہ آنکھ صرف ایک حد تک کام کرتی ہے۔ اس لیے وہ کلی مطالعہ کے لیے کافی نہیں۔ مثلاً ایک چیزجو دور سے دیکھنے میں ایک نظر آتی ہے، قریب سے جاکر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ دو تھیں۔
موجودہ زمانہ میں آلاتی مطالعہ وجود میں آیا تو انسان نے سمجھا کہ آلات اس کی محدودیت کا بدل ہیں۔ آلاتی مطالعہ کے ذریعے چیزوں کو ان کی آخری حد تک دیکھا جاسکتا ہے۔ مگر بیسویں صدی میں پہنچ کر اس خوش خیالی کا خاتمہ ہوگیا۔ اب معلوم ہوا کہ چیزیں اس سے زیادہ پیچیدہ اور اس سے زیادہ پراسرار ہیں کہ آلات کی مدد سے ان کو پوری طرح دیکھا جاسکے۔
ایسی حالت میں اجمالی علم پر قانع ہونا انسان کے لیے حقیقت پسندی کا تقاضا بن گیاہے، نہ کہ محض عقیدہ کا تقاضا۔ ہماری صلاحیتیں محدود ہیں اور ہم سے ماورا جو عالم ہے وہ لامحدود۔ پھر محدود کے لیے کس طرح ممکن ہے کہ وہ لامحدود کا احاطہ کرسکے۔ انسان کی محدودیت کا تقاضا ہے کہ وہ بالواسطہ علم پر قناعت کرے اور براہِ راست علم پر اصرار کرنا چھوڑ دے۔ بالفاظ دیگر قرینہ سے حاصل شدہ علم کو بھی اسی طرح معقول (valid) مان لے جس طرح وہ مشاہدہ سے حاصل شدہ علم کو معقول مانتا ہے۔