Tazkirul Quran (Urdu) · The Cave (Al-Kahf)

Tazkirul Quran, Qur’an 18:25–26

The Cave (Al-Kahf)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

قتادہ اور مطرف بن عبد اللہ کی تفسیر کے مطابق 300 سال یا 309 سال لوگوں کے قول کی حکایت ہے، نہ کہ خداکی طرف سے خبر۔ عبد اللہ بن مسعود کی قرأت سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ اس زمانہ کے اہلِ کتاب غیر مستند قصوں کی بنیاد پر یہ سمجھتے تھے کہ غار میں اصحاب کہف کے قیام کی مدت شمسی کیلنڈر کے لحاظ سے 300 سال ہے اور قمری کیلنڈر کے لحاظ سے 309 سال (تفسیر ابن کثیر، جلد 5، صفحہ 151)۔قرآن نے لوگوں کے اس خیال کو نقل کیا۔ مگر اسی کے ساتھ یہ کہہ کر اس کو بے بنیاد قرار دے دیا کہ قُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا (کہو کہ اللہ زیادہ جانتا ہے کہ وہ غار میں کتناٹھہرے)۔

موجودہ زمانہ کے محققین نے دریافت کیا ہے کہ یہ مدت شمسی کیلنڈر کے لحاظ سے 196 سال تھی۔ یہ تحقیق اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے جو تمام اگلی پچھلی باتوں سے باخبر ہے۔ اور اسی علم کی بنا پر اس نے مذکورہ قول کو قبول نہیں کیا۔ قرآن اگر کوئی انسانی کلام ہوتا تو یقیناً وہ اپنے زمانہ کے مشہور قول کو لے لیتا جو بالآخر بعد کی تحقیق سے ٹکرا جاتا۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page