Tazkirul Quran (Urdu) · The Cave (Al-Kahf)

Tazkirul Quran, Qur’an 18:50

The Cave (Al-Kahf)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس ایک عبادت گزار جن تھا۔ وہ بظاہر عابد وزاہد بنا ہوا تھا۔ مگر جب خدا نے آدم کے سامنے جھکنے کا حکم دیا تووہ گھمنڈ کی بنا پر جھکنے کے لیے تیار نہ ہوا۔ اب جو لوگ گھمنڈ کے جذبہ کے تحت حق کے سامنے جھکنے سے انکار کریں وہ سب ابلیس کی ذرّیت ہیں۔ خواہ وہ بظاہر عبادت گزارہی کیوں نہ دکھائی دیتے ہوں۔

خدا کے سامنے جھکنا دراصل خداکے مقابلہ میں اپنے عجز کا اقرار کرنا ہے۔ اگر کوئی شخص حقیقی معنوں میں خدا کے سامنے جھکنے والا ہو تو جہاں کہیں بھی اس کا سامنا حق سے ہوگا وہ فوراً جھک جائے گا۔ اس کے برعکس، جو شخص ظاہری طورپر سجدہ گزار ہو مگر اپنے اندر گھمنڈ کی نفسیات لیے ہوئے ہو وہ ایسے موقع پر بآسانی سجدہ کر لے گا جہاں اس کی اَنا (ego)کو ٹھیس نہ لگتی ہو۔ مگر جہاں اَناکو جھکانے کی قیمت پر اپنے آپ کو جھکانا پڑے وہاں اچانک وہ سرکش بن جائے گا اور جھکنے سے انکار کردے گا۔

جب حق کی پکار اٹھے اور کچھ لوگ ابلیس اور اس کی ذریت کے اثر میں آکر اس کو قبول نہ کریں تو گویا وہ ابلیس اور اس کی ذرّیت کو خدا کا بدل بنا رہے ہیں۔ جہاں انھیں خدا کے ڈر سے حق کے آگے جھک جانا چاہیے تھا وہاں وہ جھوٹے معبودوں کے ڈر سے اس کے آگے جھکنے سے انکار کررہے ہیں۔ ایسے لوگ بدترین ظالم ہیں۔ بہت جلد انھیں معلوم ہوجائے گا کہ خدا کو چھوڑ کر انھوں نے جن کے اوپر بھروسہ کیا تھا وہ ان کے کچھ کام آنے والے نہیں۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page