Tazkirul Quran (Urdu) · Mary (Maryam)

Tazkirul Quran, Qur’an 19:61–63

Mary (Maryam)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

موجودہ دنیا میں امتحان کی وجہ سے ہر ایک کو آزادی ملی ہوئی ہے۔ یہاں اچھائی کرنے والے بھی آزاد ہیں اور برائی کرنے والے بھی آزاد۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں ایک سچے انسان کو کبھی سکون حاصل نہیں ہوتا۔ وہ ذاتی طورپر خواہ کتنا ہی ٹھیک ہو مگر دوسرے لوگوں کی بے ٹھیک باتیں اس کو سکون لینے نہیں دیتیں۔ لوگ اپنی آزادی سے غلط فائدہ اٹھا کر ماحول کو گندی باتوں اور بری آوازوں سے بھر دیتے ہیں۔

جنت وہ بستی ہے جس سے اس قسم کے تمام انسان خارج کردئے جائیں گے۔ وہاں صرف وہ اعلیٰ ذوق کے لوگ آباد کیے جائیں گے جنھوں نے دنیا میں یہ ثبوت دیا تھا کہ وہ کانٹوں کی مانند نہیں جیتے بلکہ پھول کی مانند رہنا جانتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ماحول میں جو زندگی بنے گی وہ بلاشبہ ابدی سلامتی کی جنت ہوگی۔

دنیا میں لغو چیزوں سے بچنا اور سلامتی کا پیکر بن کر زندگی گزارنا ایک سخت ترین عمل ہے۔ اس کے لیے اپنی آزاد زندگی کو خود اپنے ارادہ سے پابند زندگی بنا لینا پڑتاہے۔ یہ مشکل ترین قربانی ہے جس کا ثبوت صرف وہ شخص دے سکتا ہے جو فی الواقع اللہ سے ڈرتا ہو۔ اللہ سے ڈرنے والے ہی دنیا میں جنتی انسان بن کر رہ سکتے ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی ابدی جنتوں میں داخل کیے جائیں گے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page