Tazkirul Quran (Urdu) · The Heifer (Al-Baqarah)

Tazkirul Quran, Qur’an 2:183–185

The Heifer (Al-Baqarah)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

روزہ بیک وقت دو چیزوں کی تربیت ہے۔ ایک شکر، دوسرے تقویٰ۔ کھانا اور پانی اللہ کی بہت بڑی نعمتیں ہیں۔ مگر عام حالات میں آدمی کو اس کا اندازہ نہیں ہوتا۔ روزہ میں جب وہ دن بھر ان چیزوں سے رکا رہتا ہے اور سورج ڈوبنے کے بعد شدید بھوک پیاس کی حالت میں کھانا کھاتا ہے اور پانی پیتا ہے تو اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کھانا اور پانی اللہ کی کتنی بڑی نعمتیں ہیں۔ اس تجربہ سے اس کے اندر اپنے رب کے شکر کا بے پناہ جذبہ پیدا ہوتاہے۔ دوسری طرف یہی ر وزہ آدمی کے لیے تقویٰ کی تربیت بھی ہے۔ تقویٰ یہ ہے کہ آدمی دنیا کی زندگی میں خدا کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچے۔ وہ ان چیزوں سے رُکا رہے جن سے خدا نے روکا ہے اور وہی کرے جس کے کرنے کی خدا نے اجازت دی ہے۔ روزہ میں صرف رات کو کھانا اور دن کو کھانا پینا چھوڑ دینا گویا خدا کو اپنے اوپر نگراں بنانے کی مشق ہے۔ مومن کی پوری زندگی ایک قسم کی روزہ دار زندگی ہے۔ رمضان کے مہینے میں وقتی طور پر چند چیزوں کو چھڑا کر آدمی کو تربیت دی جاتی ہے کہ وہ ساری عمر ان چیزوں کو چھوڑ دے جو اس کے رب کو ناپسند ہیں — قرآن بندے کے اوپر اللہ کا انعام ہے اور روزہ بندے کی طرف سے اس انعام کا عملی اعتراف۔ روزہ کے ذریعہ بندہ اپنے آپ کو اللہ کی شکر گزاری کے قابل بناتا ہے اور یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ وہ قرآن کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق دنیا میں متقیانہ زندگی گزار سکے۔

روزہ سے دلوں کے اندر نرمی اور تواضع (modesty)آتی ہے۔ اس طرح روزہ آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ وہ ان کیفیتوں کو محسوس کرسکے جو اللہ کو اپنے بندوں سے مطلوب ہیں۔ روزہ کی پُرمشقت تربیت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ اللہ کی شکر گزاری میں اس کا سینہ تڑپے اور اللہ کے خوف سے اس کے اندر کپکپی پیدا ہو۔ جب آدمی اس نفسیاتی حالت کو پہنچتا ہے، اسی وقت وہ اس قابل بنتا ہے کہ وہ اللہ کی نعمتوں پر ایسا شکر اداکرے جس میں اس کے دل کی دھڑکنیں شامل ہوں۔ وہ ایسے تقویٰ کا تجربہ کرے جو اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے کر دے۔ وہ اللہ کو ایسے بڑے کی حیثیت سے پائے جس میں اس کا اپنا وجود بالکل چھوٹا ہوگیا ہو۔

روزہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے صبر کا عمل ہے اور صبر، یعنی حکم الٰہی کی تعمیل میں مشکلات کو برداشت کرنا ہی وہ چیز ہے جس سے آدمی اس قلبی حالت کو پہنچتا ہے جو اس کو خدا سے قریب کرے اور اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلوائے جو قبولیت کو پہنچنے والے ہوں۔ اللہ کو وہی پاتا ہے جو اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرے، اللہ تک اسی شخص کے الفاظ پہنچتے ہیں جس نے اپنی روح کے تاروں کو اللہ سے ملا رکھا ہو۔

شریعت آدمی کے اوپر کوئی غیر فطری پابندی عائد نہیں کرتی۔ روزہ میں دن کے اوقات میں ازدواجی تعلق ممنوع ہونے کے باوجود رات کے اوقات میں اس کی اجازت، افطار وسحر کے اوقات جاننے کے لیے جنتری کا پابند کرنے کے بجائے عام مشاہدہ کو بنیاد قرار دینا اسی قسم کی چیزیں ہیں۔ جزئی تفصیلات میں بندوں کو گنجائش دیتے ہوئے اللہ نے عمومی حدیں واضح فرمادی ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ مقرر حدوں کا پوری طرح پابند رہے اور تفصیلی جزئیات میں اس روش کو اختیار کرے جو تقویٰ کی روح کے مطابق ہے۔

روزہ کے حکم کے فوراً بعد یہ حکم کہ ’’ناجائز مال نہ کھاؤ‘‘ بتاتا ہے کہ روزہ کی حقیقت کیا ہے۔ روزہ کا اصل مقصد آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرنا ہے کہ جہاں خدا کی طرف سے رکنے کا حکم ہو، وہاں آدمی رک جائے، حتی کہ اگر حکم ہو تو جائزچیز سے بھی، جیسا کہ روزہ میں ہوتا ہے۔ اب جو شخص خدا کے حکم کی بنا پر حلال کمائی تک سے رک جائے وہ اسی خدا کے حکم کی بنا پر حرام کمائی سے کیوں نہ اپنے آپ کو روکے رکھے گا۔

مومن کی زندگی ایک قسم کی روزہ دار زندگی ہے۔ اس کو ساری عمر کچھ چیزوں سے ’’افطار‘‘ کرنا ہے اور کچھ چیزوں سے مستقل طور پر’’روزہ‘‘ رکھ لینا ہے۔ رمضان کا مہینہ اسی کی تربیت ہے۔ پھر روزہ کی محتاط زندگی اور اس کا پُرمشقت عمل یہ سبق دیتاہے کہ اللہ کا عبادت گزار بندہ وہ ہے جو تقویٰ کی سطح پر اللہ کی عبادت کررہا ہو۔ اللہ کو پکارنے والا صرف وہ ہے جو قربانیوں کی سطح پر اللہ کی نزدیکی حاصل کرے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page