Tazkirul Quran (Urdu) · The Heifer (Al-Baqarah)

Tazkirul Quran, Qur’an 2:249–251

The Heifer (Al-Baqarah)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

حضرت موسیٰ کے تقریباً 3 سو سال بعداور حضرت مسیح سے تقریباً ایک ہزار سال پہلے ایسا ہوا کہ فلستیوں نے بنی اسرائیل پر حملہ کیا اور فلسطین کے اکثر علاقے ان سے چھین لیے۔ ایک عرصہ کے بعد بنی اسرائیل نے چاہاکہ وہ فلستیوں کے خلاف اقدام کریں اور اپنے علاقے ان سے واپس لیں۔ اس وقت ان کے درمیان ایک نبی تھے جن کا نام سموئیل تھا۔ وہ شام کے ایک قدیم شہر رامہ میں رہتے تھے اور بنی اسرائیل کے اجتماعی امور کے ذمہ دار تھے۔بنی اسرائیل کا ایک وفد ان سے ملا۔ اور کہا کہ آپ اب بوڑھے ہوچکے ہیں، اس لیے آپ ہم میں سے کسی کو ہمارے اوپر بادشاہ مقرر کردیں تاکہ ہم اس کی رہنمائی میں جنگ کرسکیں۔ تورات کے الفاظ میں ’’اور ہمارا بادشاہ ہماری عدالت کرے اور ہمارے آگے آگے چلے اور ہماری لڑائی کرے‘‘۔

حضرت سموئیل مشاہدے کی بنا پر اگرچہ اپنی قوم کے کردار کے بارے میں اچھی رائے نہ رکھتے تھے تاہم ان کے مطالبہ کی بنا پر انھوں نے کہا کہ اچھا میں تمھارے لیے ایک بادشاہ مقرر کردوں گا۔ چنانچہ انھوں نے قبیلہ بن یمین کے ایک بہادر نوجوان ساؤل (طالوت) کو ان کا بادشاہ (سردار) مقرر کردیا۔

ساؤل (طالوت) بنی اسرائیل کا لشکر لے کر دشمن کی طرف بڑھے۔ راستہ میں دریائے یردن پڑتا تھا۔ اس کو پار کرکے دشمن کے علاقہ میں پہنچنا تھا۔ چوں کہ طالوت کو بنی اسرائیل کی کمزوریوں کا علم تھا، انھوں نے ان کی جانچ کے لیے ایک سادہ طریقہ استعمال کیا۔ دریا کو پار کرتے ہوئے انھوں نے اعلان کیا کہ کوئی شخص پانی نہ پئے۔ البتہ ایک آدھ چلو لےلے تو کوئی حرج نہیں۔ بنی اسرائیل کی بڑی تعداد اس امتحان میں پوری نہ اتری۔ تاہم اس مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے انھیں کامیابی دی۔ حضرت داؤد جو اس وقت صرف ایک نوجوان تھے، انھوں نے اس جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ فلستیوں کی فوج کا زبردست پہلوان جالوت ان کے ہاتھ سے قتل ہوا۔ اس کے بعد فلستیوں نے اسرائیل کے مقابلہ میں ہتھیار ڈال دیے۔

مقابلہ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ افراد کے اندر مشکلات پر جمے رہنےاور سردار کی اطاعت کرنے کا مادہ ہو۔ طالوت کا اپنے ساتھیوں کو پانی پینے سے منع کرنا اسی استعداد کی جانچ کی ایک سادہ سی تدبیر تھی۔ بائبل کے بیان کے مطابق ان میں سے صرف 600 آدمی ایسے نکلے جنھوں نے راستہ میں آنے والے دریا کا پانی نہیں پیا۔ جن لوگوں نے پانی پیا انھوں نے گویا اپنی اخلاقی کمزوریوں کو اور پختہ کرلیا۔ اس لیے دشمن کا بظاہر طاقت ور ہونا اب ان کو اور زیادہ محسوس ہونے لگا۔ دوسری طرف جن لوگوں نے پانی نہیں پیا تھا ان کے اس فعل سے ان کا صبر اور اطاعت کا مزاج اور زیادہ مضبوط ہوگیا۔ ان کو وہ حقیقت اور زیادہ واضح صورت میں دکھائی دینے لگی جس کو بائبل کے بیان کے مطابق طالوت کے ایک ساتھی نے ان لفظوں میں بیان کیا تھا اور یہ ساری جماعت جان لے کہ خداوند تلوار اور بھالے کے ذریعے سے نہیں بچاتا۔ اس لیے کہ جنگ تو خداوند کی ہے اور وہی تم کو ہمارے ہاتھ میں کردے گا (1 سموئیل 17 48)۔

اقتدار جس کے پاس ہو وہ کچھ دنوں بعد گھمنڈ میں پڑ کر ظلم کرنے لگتا ہے۔ اس لیے اقتدار اگر کسی کے پاس مستقل طورپر جمع ہوجائے تو اس کے ظلم وفساد سے زمین بھر جائے۔ اس کی تلافی کا انتظام اللہ نے اس طرح کیا ہے کہ وہ صاحبان اقتدار کو بدلتا رہتا ہے۔ وہ بے اقتدار لوگوں میں سے ایک گروہ کو اٹھاتا ہے اور اس کے ذریعہ سے صاحب اقتدار کو ہٹا کر اس کے منصب پر دوسرے کو بٹھا دیتاہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی برسرِ اقتدار جماعت کا ظلم بڑھ جائے تو یہ اس کے خلاف اٹھنے والے گروہ کے لیے خدائی مدد کا وقت ہوتاہے۔ اگر وہ صبر اور اطاعت کی شرط کو پورا کرتے ہوئے اپنے آپ کو خدائی منصوبہ میں شامل کردے تو بظاہر کم ہونے کے باوجود وہ خداکی مدد سے زیادہ کے اوپر غالب آجائے گا — خدا کا خوف محض ایک منفی چیز نہیں، وہ ایک علم ہے جو آدمی کے ذہن کو اس طرح روشن کردیتاہے کہ وہ ہر چیز کو اس کے اصلی اور حقیقی روپ میں دیکھ سکے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page