Tazkirul Quran, Qur’an 2:258
The Heifer (Al-Baqarah)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
موجودہ زمانہ میں عوامی تائید سے حکومت کا استحقاق حاصل ہوتاہے۔ مگر جمہوریت کے دورسے پہلے اکثر بادشاہ لوگوں کو یہ یقین دلا کر ان کے اوپر حکومت کرتے تھے کہ وہ خدا کا انسانی پیکر ہیں۔ قدیم عراق کے بادشاہ نمرود کا معاملہ یہی تھا جو حضرت ابراہیم کا ہم عصر تھا۔ اس کی قوم سورج کو دیوتاؤں کا سردار مانتی تھی۔ اور اس کی پوجا کرتی تھی۔ نمرود نے کہا کہ وہ سورج دیوتا کا مظہر ہے، اس لیے وہ لوگوں کے اوپر حکومت کرنے کا خدائی حق رکھتاہے۔ حضرت ابراہیم نے اس وقت کے عراق میں جب توحید کی آواز بلند کی تو اس کا سیاست وحکومت سے براہِ راست کوئی تعلق نہ تھا۔ آپ لوگوں سے صرف یہ کہہ رہے تھے کہ تمھارا خالق اور مالک صرف ایک اللہ ہے۔ کوئی نہیں جو خدائی میں اس کا شریک ہو۔ اس لیے تم اسی کی عبادت کرو۔ اسی سے ڈرو اور اسی سے امیدیں قائم کرو۔ تاہم اس غیر سیاسی دعوت میں نمرود کو اپنی سیاست پرزد پڑتی ہوئی نظر آئی۔ ایسا عقیدہ جس میں سورج کو ایک بے زورمخلوق بتایا گیا ہو وہ گویا اس اعتقادی بنیاد ہی کو ڈھا رہا تھا جس کے اوپر نمرود نے اپنا سیاسی تخت بچھا رکھا تھا۔اس وجہ سے وہ آپ کا دشمن ہوگیا۔
حضرت ابراہیم نے نمرود سے جو گفتگو کی اس سے انبیاء کا طریقِ دعوت معلوم ہوتا ہے۔ نمرود کے سوال کے جواب میں آنجناب نے فرمایا کہ میرا رب وہ ہے جس کے اختیار میں زندگی اور موت ہے۔ نمرود نے مناظرانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ موت اور زندگی پر تو میں بھی اختیار رکھتا ہوں۔ جس کو چاہوں مروادوں اور جس کو چاہوں زندہ رہنے دوں۔ آنجناب نمرود کا جواب دے سکتے تھے۔ مگر آپ نے گفتگو کو مناظرہ بنانا پسند نہ کیا۔ اس لیے آپ نے فوراً دوسری مثال پیش کردی جس کے جواب میں نمرود اس قسم کی بات نہ کہہ سکتا تھا جو اس نے پہلی مثال کے جواب میں کہی۔ حضرت ابراہیم کے لیے نمرود حریف نہ تھا۔ بلکہ مدعو کی حیثیت رکھتا تھا اس لیے ان کو یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ استدلال کا کون سا حکیمانہ انداز ان کو اختیار کرنا چاہیے۔
موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لیے اس کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ ایک ہی چیز کو آدمی دو مختلف معنوں میں لے سکے۔ مثلاً ایک شخص کے پاس دولت اور اقتدار آجائے تو وہ اس کو ایسے رخ سے دیکھ سکتا ہے کہ اس کی کامیابی اس کو اپنی صلاحیتوں کا نتیجہ نظر آئے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس کو ایسے رخ سے دیکھے کہ اس کو محسوس ہو کہ جو کچھ اس کو ملا ہے وہ سراسر خدا کا انعام ہے۔ پہلی صورت ظلم کی صورت ہے، اور دوسری شکر کی صورت۔ جس شخص کے اندر ظالمانہ مزاج ہو اس کے لیے موجودہ دنیا صرف گمراہی کی خوراک ہوگی۔ اس کو ہر واقعہ میں گھمنڈ اور خود پسندی کی غذا ملے گی۔ اس کے برعکس، جس کے اندر شکر کا مزاج ہوگا، اس کے لیے ہر واقعہ میں ہدایت کا سامان ہوگا۔ خدا کی دنیا اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ اس کے لیے رزق ایمانی کا دستر خوان بن جائے گی۔
یہاں موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کے جن دو تجربات کا ذکر ہے ان کا تعلق انبیاء سے ہے۔ پہلا تجربہ غالباً حضرت عزیر کے ساتھ گزرا جن کا زمانہ پانچویں صدی قبل مسیح کا ہے۔ اور دوسرا تجربہ حضرت ابراہیم سے تعلق رکھتا ہے۔ جن کا زمانہ 1985-2160 ق م کے درمیان ہے۔ انبیاء خدا کی طرف سے اس لیے مقرر ہوتے ہیںکہ لوگوں کو غیبی حقائق سے باخبر کریں۔ اس لیے ان کو وہ غیبی چیزیں بے پردہ کرکے دکھا دی جاتی ہیں جن پر دوسروں کے لیے اسباب کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ انبیاء کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ اس لیے ہوتاہے تاکہ وہ ان چیزوں کو ذاتی مشاہد بن کر ان کی بابت لوگوں کو با خبر کرسکیں۔ وہ لوگوں کو جن غیبی حقیقتوں کی خبر دیں ان کے متعلق کہہ سکیں کہ ہم ایک دیکھی ہوئی چیز سے تم کو خبردار کررہے ہیں، نہ کہ محض سنی ہوئی چیز سے۔