Tazkirul Quran, Qur’an 2:261–264
The Heifer (Al-Baqarah)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
ہر عمل جو آدمی کرتا ہے وہ گویا ایک بیج ہے جو آدمی ’’زمین‘‘ میں ڈالتا ہے۔ اگر اس کا عمل اس لیے تھا کہ لوگ اسے دیکھیں تو اس نے اپنا بیج دنیا کی زمین میں ڈالا تاکہ یہاں کی زندگی میں اپنے کیے کا پھل پاسکے۔ اور اگر اس کا عمل اس لیے تھا کہ اللہ اس کو ’’دیکھے‘‘ تو اس نے آخرت کی زمین میں اپنا بیج ڈالا جو اگلی دنیا میں اپنے پھول اور پھل کی بہاریں دکھائے۔ دنیا میں ایک دانہ سے ہزار دانے پیدا ہوتے ہیں۔ یہی حال آخرت کے کھیت میں دانہ ڈالنے کا بھی ہے۔
دنیا کے فائدہ یا دنیا کی شہرت وعزت کے لیے خرچ کرنے والا اسی دنیا میں اپنا معاوضہ لینا چاہتا ہے۔ ایسے آدمی کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ مگر جو شخص اللہ کے لیے خرچ کرے اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی پر احسان نہیں جتاتا، اس نے جب اللہ کے لیے خرچ کیا ہے تو انسان پر اس کا کیا احسان۔ اس کی رقم خرچ ہو کر جن لوگوں تک پہنچتی ہے ان کی طرف سے اس کو اچھا جواب نہ ملے تو وہ ناراضگی کا اظہار نہیں کرتا۔ اس کو تو اچھا جواب اللہ سے لینا ہے، پھر انسانوں سے ملنےیا نہ ملنے کا اسے کیا غم۔ اگر کسی سائل کو وہ نہیں دے سکتاتو وہ اس سے برُا کلمہ نہیں کہتا۔ بلکہ نرمی کے ساتھ معذرت کردیتاہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ وہ جو کچھ بول رہا ہے خدا کے سامنے بول رہا ہے۔ خدا کا خوف اس کو انسان کے سامنے اپنی زبان کو کنٹرول کرنے پر مجبور کردیتاہے۔
پتھر کی چٹان کے اوپر کچھ مٹی جم جائے تو بظاہر وہ مٹی دکھائی دے گی۔ مگر بارش کا جھونکا آتے ہی مٹی کی اوپری تہ بہہ جائے گی اور اندر سے خالی پـتھر نکل آئے گا۔ ایسا ہی حال اس انسان کا ہوتا ہے جو بس اوپری دین داری لیے ہوئے ہو۔ دین اس کے اندر تک داخل نہ ہوا ہو۔ ایسے آدمی سے اگر کوئی سائل بے ڈھنگے انداز سے سوال کردے یا کسی کی طرف سے کوئی ایسی بات سامنے آجائے جو اس کی اَنا پر ضرب لگانے والی ہو تو وہ بپھر کر انصاف کی حدوں کو توڑ دیتا ہے۔ ایسا ایک واقعہ ایک ایسا طوفان بن جاتا ہے جو اس کی اوپری ’’مٹی‘‘ کو بہا لے جاتا ہے اور پھر اس کے اندر کا انسان سامنے آجاتا ہے جس کو وہ دین کے ظاہری لبادہ کے پیچھے چھپائے ہوئے تھا— اللہ کے لیے عمل کرنا گویا دیکھے پر اَن دیکھے کو ترجیح دینا ہے جو اس بلند نظری کا ثبوت دے وہی وہ شخص ہے جس پر خدا کی چھپی ہوئی معرفت کے دروازے کھلتے ہیں۔