Tazkirul Quran (Urdu) · The Heifer (Al-Baqarah)

Tazkirul Quran, Qur’an 2:275–277

The Heifer (Al-Baqarah)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

بندوں کے درمیان باہمی طورپر جو معاشی تعلقات مطلوب ہیں ان کی علامت زکوٰۃ ہے۔ زکوٰۃ میں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے حقوق کا اعتراف یہاںتک کرتاہے کہ وہ خود اپنی کمائی کا ایک حصہ نکال کر اپنے بھائی کو دیتاہے۔ جو دین حقوق شناسی کا ایسا ماحول بنانا چاہتا ہو وہ سود کے دولت پرستانہ طریقہ کو کسی طرح قبول نہیں کرسکتا۔ ایسے معاشرہ میں باہمی لین دین تجارت کے اصول پر ہوتا ہے، نہ کہ سودکے اصول پر تجارت میں بھی آدمی نفع لیتاہے۔ مگر تجارت کا جو نفع ہے وہ آدمی کی محنت اور اس کے خطرات مول لینے کی قیمت ہوتا ہے۔ جب کہ سود کا نفع محض خود غرضی اور زر اندوزی کا نتیجہ ہے۔

سود کا کاروبار کرنے والا اپنی دولت دوسرے کو اس لیے دیتاہے کہ وہ اس کے ذریعہ اپنی دولت کو مزید بڑھائے۔ وہ یہ دیکھ کر خوش ہوتاہے کہ اس کا سرمایہ یقینی شرح سے بڑھ رہا ہے۔ مگر اس عمل کے دوران وہ خود اپنے اندر جو انسان تیار کرتاہے وہ ایک خود غرض اور دنیا پرست انسان ہے۔ اس کے برعکس، جو آدمی اپنی کمائی میں سے صدقہ کرتاہے، جو دوسروں کی ضرورت مندی کو اپنے لیے تجارت کا سودا نہیں بناتا بلکہ اس کے ساتھ اپنے کو شریک کرتا ہے، ایسا شخص اپنے عمل کے دوران اپنے اندر جو انسان تیار کررہا ہے وہ پہلے سے بالکل مختلف انسان ہے۔ یہ وہ انسان ہے جس کے دل میں دوسروں کی خیر خواہی ہے۔ جو ذاتی دائرہ سے اوپر اٹھ کر سوچتاہے۔

دنیا میں آدمی اس لیے نہیں بھیجا گیا ہے کہ وہ یہاں اپنی کمائی کے ڈھیر لگائے۔ آدمی کے لیے ڈھیر لگانے کی جگہ آخرت ہے۔ دنیا میں آدمی کو اس لیے بھیجا گیا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ ان میں کون ہے جو اپنی خصوصیات کے اعتبار سے اس قابل ہے کہ اس کو آخرت کی جنتی دنیامیں بسایا جائے۔ جو لوگ اس صلاحیت کا ثبوت دیں گے ان کو خدا جنت کا باشندہ بننے کے لیے چن لے گا، اور باقی تمام لوگ کوڑا کرکٹ کی طرح جہنم میں پھینک دیے جائیں گے — صدقہ کی روح حاجت مند کو اپنا مال خدا کے لیے دینا ہے اور سود کی روح استحصال کے لیے دینا۔صدقہ اس بات کی علامت ہے کہ آدمی آخرت میں اپنے لیے نعمتوں کا ڈھیر دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں سود اس بات کی علامت ہے کہ وہ اسی دنیا میں اپنے لیے ڈھیر لگانے کا خواہش مند ہے۔ یہ دو الگ الگ انسان ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ خدا کے یہاں دونوں کا انجام یکساں قرار پائے۔

دنیا اسی کو ملتی ہے جس نے دنیا کے لیے محنت کی ہو، اسی طرح آخرت اسی کو ملے گی جس نے آخرت کے لیے اپنے اثاثہ کو قربان کیا۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page