Tazkirul Quran (Urdu) · The Heifer (Al-Baqarah)

Tazkirul Quran, Qur’an 2:282–283

The Heifer (Al-Baqarah)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

دو آدمیوں کے درمیان نقد معاملہ ہو تو لین دین ہو کر اسی وقت معاملہ ختم ہوجاتا ہے۔ مگر ادھار معاملات کی نوعیت مختلف ہے۔ ادھار معاملہ میں اگر ساری بات زبانی ہو تو کاغذی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے بعد کو اختلاف پیدا ہونے کا امکان رہتا ہے۔ طرفین اپنے اپنے مطابق معاملہ کی تصویر پیش کرتے ہیں اور کوئی ایسی قطعی بنیاد نہیں ہوتی جس کی روشنی میں صحیح فیصلہ کیا جاسکے۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ادائیگی کے وقت اکثر دونوں کو ایک دوسرے سے شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کا حل تحریر ہے۔ نقد معاملہ کو لکھ لیا جائے تو وہ بھی بہتر ہے۔ مگر ادھار معاملات کے لیے تو ضروری ہے کہ ان کو باقاعدہ تحریر میں لایا جائے اور اس پر گواہ بنالیے جائیں۔ اختلاف کے وقت یہی تحریر فیصلہ کی بنیاد ہوگی۔ یہ مسلمان کے لیے تقویٰ اور عدل کی ایک حفاظتی تدبیر ہے۔ کتابت شدہ شرائط کے مطابق وہ اپنے حقوق کو ادا کرکے خدا اور اس کی مخلوق کے سامنے بری الذمہ ہوجاتاہے۔

مسلمان خدا کے دین کے گواہ ہیں۔جس طرح اللہ کی بات کو جانتے ہوئے چھپانا جائز نہیں، اسی طرح انسانی معاملات میں کسی کے پاس کوئی گواہی ہو تو اس کو چاہیے کہ اس کو ظاہر کردے۔ گواہی کو چھپانا اپنے اندر مجرمانہ ذہن کی پرورش کرنا ہے اور معاملہ کے منصفانہ فیصلہ میں وہ حصہ ادا نہ کرنا ہے، جو وہ کرسکتا ہے۔ انسان کا ضمیر چاہتا ہے کہ جب ایک چیز حق نظر آئے تو اس کے حق ہونے کا اعتراف کیا جائے۔ اور جب ایک چیز ناحق دکھائی دے تو اس کے ناحق ہونے کا اعلان کیاجائے۔ ایسی حالت میں جو شخص اپنے وقار اور مصلحت کی خاطر اپنی زبان کو بند رکھتا ہے وہ گویا ایسا مجرم ہے جو اپنے جرم پر خود ہی گواہ بن گیا ہو۔

’’اور اللہ سے ڈرو، اللہ تم کو سکھاتا ہے‘‘۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علم کا اصل سرچشمہ تقویٰ ہے ۔ آدمی کا اخلاص اور اس کا خوف خدا ، دیانت داری اور مخلوق کی خیرخواہی اور ذمہ داری کا احساس ، یہی وہ چیزیں ہیں جو کسی آدمی کے لیے علم وآگہی کی سب سے بڑی ضمانت ہیں ۔ تقویٰ کا تعلق علم سے یہ ہے کہ تقویٰ انسان کو ڈی کنڈیشنڈ مائنڈ (deconditioned mind)بناتا ہے۔ وہ آدمی کے ذہن کو بیدار کرتا ہے ۔ وہ انسان کی سوئی ہوئی صلاحیتوں کو جگاتا ہے ۔ وہ انسان کو زیادہ گہرے غوروفکر کے قابل بنادیتا ہے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page