Tazkirul Quran (Urdu) · The Heifer (Al-Baqarah)

Tazkirul Quran, Qur’an 2:67–73

The Heifer (Al-Baqarah)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

ایک گروہ جس کو اللہ کی طرف سے شریعت دی جائے اس کی گم راہی کی ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ وہ عملاً اس کے خلاف چلے اور تاویلوں کے ذریعے یہ ظاہر کرے کہ وہ عین خداکے حکم پر قائم ہے۔ ان کو یہ حکم تھا کہ وہ ایک مخصوص دن کو روزہ اور عبادت کے لیے مخصوص رکھیں ۔ اس دن کسی قسم کا کوئی دنیوی کام نہ کریں ۔ مگر انھوں نے اس حرمت کو باقی نہ رکھا۔ وہ دوسرے دنوں کی طرح اس مخصوص دن بھی اپنے دنیوی کاروبار کرنے لگے۔ البتہ وہ طرح طرح کی لفظی تاویلوں سے ظاہر کرتے کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ عین خدا کے حکم کے مطابق ہے۔ ان کی یہ ڈھٹائی اللہ کو اتنی ناپسند ہوئی کہ وہ بندر بنادیے گئے — جب بھی آدمی شریعت سے انحراف کرتاہے تو وہ اپنے آپ کو جانوروں کی سطح پر لے جاتاہے جوکسی اخلاقی ضابطہ کے پابند نہیں ہیں ۔ اس لیے جو لوگ ظاہر میں خدا کے دین کو ماننے کا اقرار کریں ، مگر اس کے ساتھ اپنے دنیوی مفاد کے لیے حیلہ جوئی کا طریقہ اختیار کریں ان کو ڈرنا چاہیے کہ خدا کا قانون ان کو اسی حیوانی ذلت میں نہ مبتلا کردے جس میں پچھلی قومیں اپنے اسی قسم کے فعل کی وجہ سے مبتلا ہوئے۔

۱۔ مصر میں لمبی مدت تک قیام کرنے کی وجہ سے بنی اسرائیل مصری تہذیب اور رسوم سے متاثر ہوگئے۔ مصری قوم گائے کو پوجتی تھی۔ چنانچہ مصریوں کے اثر سے بنی اسرائیل میں بھی گائے کے مقدس ہونے کا ذہن پیدا ہوگیا۔ جب مذکورہ واقعہ ہوا تو اللہ نے چاہا کہ اس واقعہ کے ذیل میں ان کے ذہن سے گائے کے تقدس کو توڑا جائے۔ چنانچہ قاتل کا پتہ لگانے کے لیے گائے کے ذبح کی تدبیر اختیار کی گئی۔

۲۔ اسی طرح بنی اسرائیل نے یہ غلطی کی تھی کہ فقہی موشگافی (hair splitting)اور بحث کے نتیجہ میں خدا کے سادہ دین کو ایک بوجھل دین بنا ڈالا تھا۔ چنانچہ مذکورہ واقعہ کے ذیل میں ان کو یہ سبق دیاگیا کہ اللہ کی طرف سے جو حکم آئے اس کو سادہ معنوں میں لے کر فوراً اس کی تعمیل میں لگ جاؤ۔ کھو دکرید کا طریقہ اختیار نہ کرو۔اگر تم نے ایسا کیا کہ حکم کی تفصیلات جاننے اور اس کے حدود متعین کرنے کے لیے موشگافیاںکرنے لگے توتم سخت آزمائش میں پڑ جاؤ گے۔ اس طرح ایک سادہ حکم شرائط کا اضافہ ہوتے ہوتے ایک سخت حکم بن جائے گا جس کی تعمیل تمھارے لیے بے حد مشکل ہو۔

۳۔ اس واقعہ کے ذریعہ انسانوں کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ دوسری زندگی اسی طرح ایک ممکن زندگی ہے جیسے پہلی زندگی۔ اللہ ہر آدمی کو مرنے کے بعد زندہ کردے گا اور اس کو دوبارہ ایک نئی دنیا میں اٹھائے گا۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page