Tazkirul Quran (Urdu) · The Pilgrimage (Al-Hajj)

Tazkirul Quran, Qur’an 22:36–37

The Pilgrimage (Al-Hajj)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

دنیا میں اگر اونٹ اور دوسرے مویشی نہ ہوتے، صرف شیر اور ریچھ اور بھیڑیے ہوتے تو ان سے خدمت لینا انسان کے لیے بہت مشکل ہوتا۔ اور ان کو عمومی پیمانہ پر قربان کرنا تو بالکل ناممکن ہوجاتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے صرف وحشی اور درندہ جانور نہیں پیدا کیے۔ بلکہ کچھ ایسے جانور بھی پیدا کیے جن میں فطری طورپریہ مزاج موجود ہے کہ وہ اپنے آپ کو انسان کے قابو میں دے دیتے ہیں۔ اور جب انسان ان کو غذا یا قربانی کے لیے ذبح کرتا ہے تو اس وقت ان کی تسخیری فطرت اپنی آخری حد پر پہنچ جاتی ہے۔

قربانی کا طریقہ اس لیے مقرر نہیں کیا گیا ہے کہ خدا کو گوشت اور خون کی ضرورت ہے۔ قربانی تو صرف ایک علامتی فعل ہے۔ جانور کی قربانی اس انسان کی ایک ظاہری تصویر ہے جو اپنے آپ کو اللہ کے لیے ذبح کرچکا ہے۔ یہ دراصل خود اپنا ذبیحہ ہے جو جانور کے ذبیحہ کی صورت میں ممثل ہوتاہے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کے لیے جانور کی قربانی خود اپنی قربانی کے ہم معنی بن جائے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page