Tazkirul Quran, Qur’an 23:17–22
The Believers (Al-Mu’minun)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
تخلیق کا یہ واقعہ جو ہر روز ماں کے پیٹ میں ہورہا ہے وہ بتاتاہے کہ اس دنیا کاخالق ایک حد درجہ باکمال ہستی ہے۔ انسان کی تخلیقِ اول کا حیرت ناک واقعہ جو ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے وہی یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ اسی طرح تخلیقِ ثانی کا واقعہ بھی ہوگا۔ اور عین اس کے مطابق ہوگا جس کی خبر نبیوں کے ذریعہ دی گئی ہے۔
انسان ایک حقیر وجود ہے۔ اس کے مقابلہ میں کائنات دہشت ناک حد تک عظیم ہے۔ مگر کائنات کا سب سے زیادہ حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ وہ انسان کے لیے انتہائی طورپر موافق ہے۔
یہاں وسیع خلا میں اَن گنت ستارے اور سیارے تیز رفتاری کے ساتھ گھوم رہے ہیں مگر بے شمار ناموافق امکانات کے باوجود وہ انسان کے لیے کوئی ناموافق صورت حال پیدا نہیں کرتے۔ بارش اگر بہت زیادہ برسنے لگے تو انسانی آبادیا ں تباہ ہوجائیں مگر اس کی بھی ایک حد ہے، وہ اس حد سے باہر نہیں جاتی۔ زمین پر پانی کے جو ذخیرے ہیں وہ سب کے سب زمین میں جذب ہوسکتے ہیں یا بھاپ بن کر فضا میں اڑ سکتے ہیں مگر کبھی ایسا نہیں ہوتا۔
مزید یہ کہ زمین کی صورت میں ایک استثنائی کرہ موجود ہے جو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خاص طورپر انسان کی ضروریات کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے۔ یہاں انسان کی غذائی ضروریات سے لے کر اس کی صنعتی ضروریات تک تمام چیزیں افراط کے ساتھ موجود ہیں۔زمین کے جانور بظاہر وحشی مخلوق ہیں مگر ان کو خدانے طرح طرح سے انسان کے لیے کار آمد بنادیا ہے۔ ان جانوروں کا پیٹ ایک حیرت انگیز کارخانہ ہے جو گھاس اور چارہ لیتا ہے اور اس کو د ودھ اور گوشت جیسی قیمتی چیزوں میں تبدیل کرتا ہے۔ جانوروں میں سے بہت سے جانور ہیں جو جانور ہونے کے باوجود اپنے آپ کو پوری طرح انسان کے قبضہ میں دے دیتے ہیں کہ وہ ان پر سواری کرے اور ان سے دوسرے مختلف فائدے حاصل کرے۔یہ واقعات اس کا تقاضا کرتے ہیں کہ انسان اپنے مہربان خدا کو پہچانے اور اس کا شکر گزار بندہ بن کر رہے۔