Tazkirul Quran (Urdu) · The Believers (Al-Mu’minun)

Tazkirul Quran, Qur’an 23:28–30

The Believers (Al-Mu’minun)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

شرک سے بھرے ہوئے ماحول میں جو چند افراد حضرت نوح پر ایمان لائے وہ اسی دن معنوی اعتبار سے خدا کی کشتی میں داخل ہوچکے تھے۔ اس کے بعد جب طوفان کے وقت وہ لکڑی کی بنائی ہوئی کشتی میں بیٹھے تو یہ گویا ان کے ابتدائی فیصلے کی تکمیل تھی۔ انھوں نے اپنے آپ کو فکری طورپر بدی کے طوفان سے بچایا تھا۔ خدا نے ان کو عملی طورپر بدی کے سخت انجام سے بچا لیا۔

مومن ہر کامیابی کو خدا کی طرف سے سمجھتا ہے۔ اس لیے وہ ہر کامیابی پر خدا کا شکر ادا کرتاہے۔ اور طوفان نوح سے نجات تو کھلا ہوا خدائی نصرت کا واقعہ تھا۔ ایسے موقع پر مومن کی زبان سے جو کلمات نکلتے ہیں وہ وہی ہیں جن کی ایک تصویر مذکورہ آیت میں نظر آتی ہے۔ وہ حال کے لیے خدا کی قدرت کا اعتراف کرتے ہوئے مستقبل کے لیے مزید عنایت کی التجا کرنے لگتا ہے، کیوں کہ اس کو یقین ہوتاہے کہ حال بھی خدا کے قبضہ میں ہے اور مستقبل بھی خداکے قبضہ میں۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page