Tazkirul Quran (Urdu) · The Believers (Al-Mu’minun)

Tazkirul Quran, Qur’an 23:35–38

The Believers (Al-Mu’minun)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

اس آیت میں آخرت کے بارے میں جو کلمات نقل کیے گئے ہیں وہ کبھی زبان حال سے ادا ہوتے ہیں اور کبھی زبان قال سے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ہمہ تن بس دنیا کی چیزوں میں مشغول ہوتا ہے۔ وہ آخرت سے اس طرح غافل نظر آتا ہے جیسے کے آخرت اس کے نزدیک بالکل بعید از قیاس بات ہے۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس کی آخرت سے غفلت اس کو سرکشی کی اس حدتک پہنچا دیتی ہے کہ وہ اپنی زبان سے بھی کہہ دیتا ہے کہ آخرت تو بہت بعید از قیاس چیز ہے۔ اس لیے آج جو کچھ مل رہا ہے اس کو حاصل کرو، کل کے موہوم فائدہ کی خاطر آج کے یقینی فائدہ کو نہ کھوؤ۔

’’اس شخص نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے‘‘— اس کلمہ کی بھی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی عین اسی جملہ کو اپنی زبان سے ادا کرے۔ د وسرے یہ کہ وہ داعیٔ حق کو اس طرح نظر انداز کرے جیسے کہ اس کی بات محض ایک سرپھرے شخص کی بات ہے۔ اس کا خدا سے کوئی تعلق نہیں۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page