Tazkirul Quran, Qur’an 23:78–80
The Believers (Al-Mu’minun)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
انسان اس کائنات کی وہ خاص مخلوق ہے جس کو استثنائی طورپر سننے اور دیکھنے او ر سوچنے کی اعلیٰ صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ یہ خصوصی صلاحیتیں یقیناً کسی خصوصی مقصد کے لیے ہیں۔ وہ مقصد یہ ہے کہ آدمی ان کو حقیقتِ حیات کی معرفت کے لیے استعمال کرے۔ وہ اپنے کان سے اس صداقت کی آواز کو سنے جس کا اعلان یہاں کیا جارہا ہے۔ وہ اپنی آنکھ سے ان نشانیوں کو دیکھے جو اس کے چاروں طرف بکھری ہوئی ہیں۔ وہ اپنی سوچنے کی صلاحیت کو استعمال کرکے ان کی گہرائی تک پہنچے۔ یہی کان اور آنکھ اور دل کا شکر ہے۔ جو لوگ موجودہ دنیا میں اس شکر کا ثبوت نہ دیں وہ ان انعامات کا استحقاق ہمیشہ کے لیے کھورہے ہیں۔
خدا کی جو صفات دنیا میں نمایاں ہورہی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ زندہ کو مُردہ اور مُردہ کو زندہ کرتا ہے۔ یہ خدا بالآخر تمام مَرے ہوئے لوگوں کو دوبارہ جمع کرے گا۔ پھر جس طرح وہ رات کو دن بناتا ہے اسی طرح وہ لوگوں کی نگاہوں سے غفلت کا پردہ ہٹادے گا۔ اس کے بعد اشیاء کی حقیقت لوگوں پر ٹھیک ٹھیک منکشف ہوجائے گی۔