Tazkirul Quran (Urdu) · The Believers (Al-Mu’minun)

Tazkirul Quran, Qur’an 23:99–104

The Believers (Al-Mu’minun)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

موت آتے ہی آدمی موجودہ دنیا سے جدا ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد اس کے اور موجودہ دنیا کے درمیان ایک ایسی آڑ قائم ہوجاتی ہے کہ وہ کبھی ادھر واپس نہ ہوسکے۔

آدمی جب موت کے بعد اگلی دنیا میں داخل ہوتا ہے تو اچانک اس کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ اب وہ جان لیتا ہے کہ جس آخرت کو وہ نظر انداز کیے ہوئے تھا وہی دراصل زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ دنیا کے سامان تو صرف اس لیے تھے کہ اس سے آخرت کی کمائی کی جائے، نہ یہ کہ بذاتِ خود انھیں کو اصل مقصود سمجھ لیا جائے۔چنانچہ موت کے بعد وہ بے اختیار چاہے گا کہ کاش وہ دوبارہ دنیا میں لوٹا دیا جائے۔ مگر ایسا ہونا ممکن نہیں کیوں کہ خدا کا قانون یہ ہے کہ کسی آدمی کو صرف ایک بار موقع دیا جائے، دوبار نہیں۔

موجودہ دنیا میں آدمی اپنے ساتھیوں اور رشتہ داروں پر بھروسہ کرتاہے۔ مگر قیامت میں وہ بالکل تنہا ہوگا۔ وہاں آدمی کا ذاتی عمل اس کے کام آئے گا، اس کے سوا کوئی چیز کسی کے کام آنے والی نہیں۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page