Tazkirul Quran, Qur’an 24:19–20
Light (Al-Nur)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
اس آیت میں ’’فاحشہ‘‘ کی اشاعت سے مراد اسی چیز کی اشاعت ہے جس کو اوپر آیت نمبر 11 میں اِفک کہا گیا ہے۔ یعنی کسی کے خلاف بے بنیاد الزام وضع کرنا اور اس کو لوگوں کے اندر پھیلانا۔
بات کہنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی صرف وہ بات اپنے منہ سے نکالے جس کے حق میں اس کے پاس فی الواقع کوئی مضبوط دلیل ہو، جو شرعی طورپر ثابت کی جاسکے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کسی حقیقی بنیاد کے بغیر خود اپنے ذہن سے بات گھڑنا اور اس کو لوگوں سے بیان کرنا۔ پہلا طریقہ جائز طریقہ ہے اور دوسرا طریقہ سراسر ناجائز طریقہ۔
عام طورپر ایسا ہوتا ہے کہ اپنے مخالف کے بارے میں کوئی بات ہو تو آدمی اس کی زیادہ تحقیق کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ وہ بلا بحث اس کو مان لیتا ہے اور دوسروں سے اس کو بیان کرنا شروع کردیتا ہے۔ یہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ فعل ہے بلکہ وہ بہت بڑا جرم ہے۔ وہ دنیا میں بھی قابل سزا ہے اور آخرت میں بھی۔