Tazkirul Quran (Urdu) · Light (Al-Nur)

Tazkirul Quran, Qur’an 24:1–3

Light (Al-Nur)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

سورہ نور غزوۂ بنی المصطلق کے بعد 6ہجری میں نازل ہوئی۔ اس غزوہ میں ایک معمولی واقعہ پیش آیا۔ اس کو شوشہ بنا کر مدینہ کے منافقین نے حضرت عائشہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرنا شروع کیا۔ اس سورہ میں ایک طرف حضرت عائشہ کی کامل برأت کردی گئی اور دوسری طرف وہ خاص احکام دئے گئے جو معاشرہ میں اس قسم کی صورت حال پیش آنے کے بعد نافذکیے جانے چاہئیں۔

اسلامی قانون میں زنا بے حد سنگین جرم ہے۔ تاہم اسلامی قانون دو قسم کے انسانوں میں فرق کرتاہے۔ ایک وہ جس کے لیے جائز صنفی تعلق کے مواقع موجود ہوں اس کے باوجود وہ ناجائز صنفی تعلق قائم کرے۔ دوسرا وہ جس کو ابھی جائز صنفی تعلق کے مواقع حاصل نہ ہوئے ہوں۔

’’زانی اور زانیہ کو سو کوڑے مارو‘‘— قرآن میں کچھ ایسے قانونی احکام ہیں جو حکومتی معاملات سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً چوری، زنا، شراب خوری، قذَف، قتل، وغیرہ۔ مگر اس قسم کے احکام بہت کم ہیں۔ ان احکام کو وضع کرنے کا مقصد ’’معیار ی سماج‘‘بنانا نہیں ہے بلکہ ان کا اصل مقصد یہ ہے کہ سماج میں ضروری نظم برقرار رہے

It is just to maintain a necessary level of order in society.

عوام کے سامنے سزا دینا دراصل سزا میں عبرت کا پہلو شامل کرناہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ حال کے مجرم کا انجام دیکھ کر مستقبل کے مجرم ڈر جائیں اور اس قسم کا جرم کرنے سے باز رہیں۔زانی اور زانیہ اگر سزا کے بعد توبہ اور اصلاح کرلیں تو وہ دوبارہ عام مسلمانوں کی طرح ہوجائیں گے۔ لیکن اگر وہ توبہ اور اصلاح نہ کریں تو اس کے بعد وہ اس قابل نہیں رہتے کہ اسلامی معاشرہ میں وہ رشتہ اور تعلق کے لیے قبول کیے جاسکیں۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page