Tazkirul Quran, Qur’an 24:55
Light (Al-Nur)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
یہاں جس غلبہ کا وعدہ کیاگیا ہے اس کا تعلق اولاً رسول اور اصحابِ رسول سے ہے۔ مگر تبعاً اس کا تعلق پوری امت سے ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غلبہ اور اقتدار اہلِ ایمان کے عمل کا نشانہ نہیں۔ وہ ایک خدائی انعام ہے جو ایمان اور عمل کے نتیجہ میں مومنین کی جماعت کو دیا جاتا ہے۔
اس غلبہ کا مقصد یہ ہے کہ اہل ایمان کو زمین میں استحکام عطا کیا جائے۔ ان کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ دشمنانِ حق کے اندیشوں سے مامون ہو کر رہ سکیں۔ وہ آزادانہ طورپر خدا کی عبادت کریں۔ اور صرف ایک خدا کے بندے بن کر زندگی گزاریں۔ اہل ایمان کے غلبہ کی یہ حالت اس وقت تک باقی رہے گی جب تک وہ خدا کے شکر کرنے والے بنے رہیں، اور تقویٰ کی کیفیت نہ کھوئیں۔
خلیفہ کے معنی عربی زبان میں جانشین یا بعد کو آنے والے کے ہیں۔ استخلاف یا خلیفہ بنانا یہ ہے کہ ایک قوم کے بعد دوسری قوم کو اس کی جگہ پر غلبہ اور استحکام عطا کیا جائے — غلبہ دراصل خدائی امتحان کا ایک پرچہ ہے۔ خدا ایک کے بعد ایک، ہر قوم کو زمین میں غلبہ دیتا ہے۔ اور اس طرح اس کو جانچتا ہے۔ اہل ایمان کی جماعت کے لیے یہ غلبہ امتحان کے ساتھ ایک انعام بھی ہے۔