Tazkirul Quran, Qur’an 25:17–19
The Criterion (Al-Furqan)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
’’ذکر‘‘ کی تشریح مفسر ابن کثیر نے ان الفاظ میں کی ہے أَيْ نَسُوا مَا أَنْزَلْتَهُ إِلَيْهِمْ عَلَى أَلْسِنَةِ رُسُلِكَ، مِنَ الدَّعْوَةِ إِلَى عِبَادَتِكَ وَحْدَكَ لا شریک لک (تفسیر ابن کثیر، جلد6، صفحہ 99)۔ یعنی،وہ اس دعوتی پیغام کو بھول گئے جو ان کی طرف تونے اپنے پیغمبروں کی زبان سے تنہا اور لاشریک اپنی عبادت کے لیے اتارا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ انبیاء کی مخاطب قومیں معروف معنوں میں کافر اور مشرک قومیں نہ تھیں۔ وہ دراصل پچھلے انبیاء کی امتیں تھیں۔ ان کے پیغمبروں نے ان کو خدا کی ہدایت پہنچائی۔ مگر زمانہ گزرنے کے بعد وہ دنیا میں مشغول ہوگئے اور اپنے بزرگوں اور پیغمبروں کے بارے میں یہ عقیدہ بنالیا کہ وہ خدا کے یہاں ان کی بخشش کا ذریعہ بن جائیں گے۔ مگر جب قیامت آئے گی تو اس قسم کے تمام عقیدے باطل ثابت ہوں گے۔ اس وقت لوگوں کو معلوم ہوگا کہ اللہ کی پکڑ سے بچانے والا خود اللہ کے سوا کوئی اور نہ تھا۔