Tazkirul Quran, Qur’an 25:25–31
The Criterion (Al-Furqan)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
جب بھی حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ لوگ اس کے دشمن بن جاتے ہیں جو حق کے نام پر ناحق کا کاروبار کررہے ہوں۔ وہ طرح طرح کے شوشے نکال کر داعی کی صداقت کو مشتبہ ثابت کرتے ہیں، اور بہت سے لوگوں کو اپنا ہمنوا بنا لیتے ہیں۔
جو لوگ ان جھوٹے لیڈروں کی باتوں پر یقین کرکے حق کے داعی کا ساتھ نہیں دیتے ان پر قیامت کے دن کھل جائے گا کہ لیڈروں کی دلیلیں دلیلیں نہ تھیں۔ وہ محض جھوٹے شوشے تھے جن کو انھوں نے اپنے مفاد کے مطابق پاکر مان لیا، اور اس کو حق سے دور رہنے کا بہانہ بنا لیا۔ اس وقت وہ افسوس کریں گے کہ کیوں انھوں نے ایسا کیا کہ وہ لیڈروں کے جھوٹے شوشوں کے فریب میں پڑے رہے، اور داعی حق کا ساتھ دینے والے نہ بنے۔
مہجور سے مراد متروک ہے، یعنی قرآن کو ماننے کے باوجود اُس کو ایک متروک کتاب (discarded book) بنا دینا۔قومِ رسول سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے پیغمبر کی دعوت کو قبول کیا، مگر ان کے بعد کی نسلیں اُس پر قائم نہ رہ سکیں ۔ جولوگ زبان سے قرآن کو مانیں ، مگر عملی طورپر وہ اس کو ترک کیے ہوئے ہوں، وہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے قرآن کو کتابِ مہجور بنادیا۔