Tazkirul Quran, Qur’an 25:43–44
The Criterion (Al-Furqan)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آسمان کے سایہ کے نیچے اللہ کے سوا پوجے جانے والے معبودں میں سب سے زیادہ سنگین اللہ کے نزدیک وہ خواہش ہے جس کی پیروی کی جائے( مَا تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ مِنْ إِلَهٍ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللهِ أَعْظَمُ مِنْ عِنْدِ اللهِ مِنْ هَوًى مُتَّبَعٍ )المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 7502۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ سب سے بڑا بت آدمی کی خواہش نفس ہے۔ بلکہ یہی اصل بت ہے۔ بقیہ تمام بت صرف خواہش پرستی کے دین کو جائز ثابت کرنے کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔
خواہش کو اپنا رہبر بنانے کے بعد انسان اسی سطح پر آجاتا ہے جو جانوروں کی سطح ہے۔ جانور سوچ کر کوئی کام نہیں کرتے بلکہ صرف جبلّی تقاضے کے تحت کرتے ہیں۔ اب اگر انسان بھی اپنے سوچنے کی صلاحیت کو کام میں نہ لائے اور صرف خواہش نفس کے تحت چلنے لگے تو اس میں اور جانور میں کیا فرق باقی رہا۔