Tazkirul Quran (Urdu) · The Poets (Al-Shu‘ara’)

Tazkirul Quran, Qur’an 26:15–19

The Poets (Al-Shu‘ara’)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

خدا جس شخص کو اپنی نمائندگی کے لیے منتخب کرے وہ ہر اعتبار سے خدا کی حفاظت میں ہوتا ہے اسی کے ساتھ اس کے لیے مزید اہتمام یہ کیا جاتاہے کہ اس کو خصوصی نشانیاں دی جاتی ہیں جو اس بات کی صریح علامت ہوتی ہیں کہ اس کا معاملہ خدا کا معاملہ ہے۔ مگر انسان اتنا ظالم ہے کہ اس کے باوجودوہ اعتراف نہیں کرتا۔

حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کے سلسلہ میں فرعون سے جو مطالبہ کیا اس کا تفصیلی مطلب کیا تھا، اس کے بارے میں قرآن میں کوئی وضاحت موجود نہیں ہے۔ تورات کا بیان اس سلسلہ میں حسب ذیل ہے

(موسیٰ نے فرعون سے کہا) اب تو ہم کو تین دن کی منزل تک بیابان میں جانے دے تاکہ ہم خداوند اپنے خدا کے لیے قربانی کریں (خروج، 3:18)۔میرےلوگوں کو جانے دے تاکہ وہ بیابان میں میرے لیے عید کریں (خروج، 5:1)۔ تب فرعون نے موسیٰ اور ہارون کو بلوا کر کہا کہ تم جاؤ اور اپنے خدا کے لیے اسی ملک میں قربانی کرو۔ موسیٰ نے کہاایسا کرنا مناسب نہیں ۔کیوں کہ ہم خداوند اپنے خدا کے لیے اس چیز کی قربانی کریں گے، جس سے مصری نفرت رکھتے ہیں۔ سو اگر ہم مصریوں کی آنکھوں کے آگے اس چیز کی قربانی کریں جس سے وہ نفرت رکھتے ہیں تو کیا وہ ہم کو سنگسار نہ کرڈالیں گے۔ پس ہم تین دن کی راہ بیابان میں جاکر خداوند اپنے خدا کے لیے جیسا وہ ہم کو حکم دے گا قربانی کریں گے(خروج، 8:25-27)۔

بائبل کے بیان سے بظاہر ایسا معلوم ہوتاہے کہ حضرت موسیٰ کا یہ سفر ہجرت کے لیے نہیں بلکہ تربیت کے لیے تھا۔ مصر میں گائے مقدس مانی جاتی تھی۔ صدیوں کے عمل سے بنی اسرائیل بھی اس سے متاثر ہوگئے تھے۔ اب حضرت موسیٰ نے چاہا کہ بنی اسرائیل کو کچھ دنوں کے لیے مصر کے مشرکانہ ماحول سے باہر لے جائیں اور ان کو آزاد فضا میں رکھ کر ان کی تربیت کریں۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page