Tazkirul Quran, Qur’an 26:160–166
The Poets (Al-Shu‘ara’)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
حضرت لو ط جس قوم میں آئے وہ شہوت پرستی میں حد کو پار کر گئی تھی۔ ان کے لیے ان کی بیویاں کافی نہ تھیں ۔ وہ نوجوان لڑکوں سے مباشرت کا فعل کرنے لگے تھے۔ حضرت لوط نے انھیں خدا پرستی اور تقویٰ کی تعلیم دی اور برے افعال سے انھیں منع کیا۔
حضرت لوط ان کے درمیان ایک ایسے داعی کی حیثیت سے اٹھے جس کی شخصیت جھوٹ اور فضول گوئی سے صد فی صد پاک تھی۔ قوم سے مادی مفاد کا جھگڑا چھیڑنے سے بھی انھوں نے مکمل پرہیز کیا۔ یہ واقعات یہ ثابت کرنے کے لیے کافی تھے کہ حضرت لوط جو کچھ کہہ رہے ہیں پوری سنجیدگی کے ساتھ کہہ رہے ہیں۔ مگر چوں کہ آپ کی بات قوم کی روش کے خلاف تھی وہ آپ کی دشمن ہوگئی۔ حضرت لوط کی بات کو وزن دینے کے لیے ضروری تھا کہ لوگوں کے اندر خداکا خوف ہو۔ مگر یہی وہ چیز تھی جس سے ان کی قوم کے لوگ پوری طرح خالی ہوچکے تھے۔ پھر وہ پیغمبر کی بات پر دھیان دیتے تو کس طرح دیتے۔