Tazkirul Quran (Urdu) · The Poets (Al-Shu‘ara’)

Tazkirul Quran, Qur’an 26:23–35

The Poets (Al-Shu‘ara’)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

تمھارا رب العالمین کیا ہے— فرعون کا یہ جملہ دراصل استہزاء تھا، نہ کہ سوال۔ مگر حضرت موسیٰ نے کسی جھنجھلاہٹ کے بغیر بالکل معتدل انداز میں اس کا جواب دیا۔ فرعون نے دوبارہ اپنے درباریوں سے یہ کہہ کر حضرت موسیٰ کی تحقیر کی کہ ’’سنتے ہو، یہ کیا کہہ رہے ہیں‘‘۔ حضرت موسیٰ نے اس کوبھی نظر انداز کیا اور اپنا سلسلہ کلام بدستور جاری رکھا۔ فرعون نے مشتعل ہو کر حضرت موسیٰ کو دیوانہ قرار دیا۔ مگر اب بھی حضرت موسیٰ نے اپنے اعتدال کو نہیں کھویا۔ فرعون نے قید کی دھمکی دی تو حضرت موسیٰ نے اپنی آخری دلیل (معجزہ) کو اس کے سامنے رکھ دیا۔ اب فرعون کے لیے مزید کچھ کہنے کی گنجائش نہ تھی۔ مگر اس نے ہار نہ مانی۔ اس نے حضرت موسیٰ کی اہمیت گھٹانے کے لیے کہا کہ یہ کوئی خدائی واقعہ نہیں۔ یہ تو محض ایک ساحرانہ واقعہ ہے۔ اور ہر جادو گر ایسا کرشمہ دکھا سکتا ہے۔

حضرت موسیٰ کی دعوت سراسر پر امن دعوت تھی۔ اس کا سیاست اور حکومت سے بھی براہِ راست کوئی تعلق نہ تھا۔ مگر فرعون نے اپنی قوم کو آپ کے خلاف بھڑکانے کے لیے یہ کہہ دیا کہ وہ ہم کو ہمارے ملک سے نکال دینا چاہتے ہیں۔ فرعون کی غیر سنجیدگی اسی سے واضح ہے کہ حضرت موسیٰ نے تو خود اپنی قوم کو ساتھ لے کر مصر سے باہر جانے کی بات کی تھی۔ مگر فرعون نے اس کو الٹ کر یہ کہہ دیا کہ موسیٰ ہم لوگوں کو مصر سے باہر نکال دینا چاہتے ہیں۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page