Tazkirul Quran (Urdu) · The Poets (Al-Shu‘ara’)

Tazkirul Quran, Qur’an 26:49–51

The Poets (Al-Shu‘ara’)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

جادوگروں کا حضرت موسیٰ پر ایمان لانا فرعون کے لیے زبردست رسوائی کا باعث تھا۔ اس نے اس کے ازالہ کے لیے یہ کیا کہ اس پورے واقعہ کو سازش قرار دے دیا۔ اس نے کہا کہ تم لوگ موسیٰ کے ساتھ ملے ہوئے ہو۔ اور تم نے جان بوجھ کر ان کے مقابلہ میں اپنی شکست کا مظاہرہ کیا ہے تاکہ موسیٰ کی بڑائی لوگوں کے دلوں پر قائم ہو اور تمھارے لیے اپنا مقصد حاصل کرنا آسان ہوجائے۔ فرعون نے جادوگروں کو اپنا یہ فیصلہ سنایا کہ تم لوگوں کو بغاوت کی سزا دی جائے گی۔ تمھارے ہاتھ پاؤں بے ترتیب کاٹ کر تم کو برسر عام سولی پر چڑھا دیا جائے گا۔ اس شدید حکم کے باوجود جادو گر بے ہمت نہیں ہوئے۔ وہی جادو گر جو پہلے (آیت 41) فرعون کے اقبال کی قسم کھارہے تھے اوراس سے انعام واکرام کی درخواست کررہے تھے انھوں نے بالکل بے خوف ہو کر کہا کہ تم جو چاہے کرو اب موسیٰ کے دین سے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ اس عالی، ہمتی کا سبب ایمانی دریافت تھی۔ آدمی کسی چیز کا کھونا اس وقت برداشت کرتاہے جب کہ اس کو کھو کر وہ زیادہ بڑی چیز پارہا ہو۔ ایمان سے پہلے جادوگروں کے پاس سب سے بڑی چیز فرعون اور اس کا انعام تھا۔ مگر ایمان کے بعد ان کو خدا اور اس کی جنت سب سے بڑی چیز نظر آنے لگی۔ یہی وجہ ہے کہ ایمان سے پہلے جس چیز کی قربانی وہ برداشت نہیں کرسکتے تھے ایمان کے بعد نہایت خوشی سے وہ اس کی قربانی دینے پر راضی ہوگئے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page