Tazkirul Quran, Qur’an 26:90–104
The Poets (Al-Shu‘ara’)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
آدمی کی جنت اور جہنم آدمی سے دور نہیں۔دونوں کے درمیان صرف ایک پردہ حائل ہے۔ قیامت جب اس پردہ کو ہٹائے گی تو ہر آدمی دیکھے گاکہ وہ عین اپنی جنت یا عین اپنی جہنم کے کنارے کھڑا ہوا تھا۔ اگرچہ غافل انسان اس کو بہت دور کی چیز سمجھ رہا تھا۔
’’مجرمین‘‘ سے مراد یہاں جھوٹے لیڈر ہیں۔ یہ لوگ اپنے وقت کے سماج میں بڑائی کا مقام حاصل کئے ہوئے تھے۔ انھوں نے دعوت حق کو صرف اس لیے قبول نہیں کیا کہ اس کے بعد ان کی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ ان کا کبر ان کے لیے حق کے اعتراف میں رکاوٹ بن گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے پیرو بھی دعوتِ حق کو قابلِ لحاظ چیز نہ سمجھ سکے۔
’’لیڈورں کو خداوند عالم کے برابر کرنا‘‘ یہ ہے کہ ان کی بات کو وہ درجہ دیا جائے جو خداوند عالم کی بات کا درجہ ہوتاہے۔ مفسر ابن کثیر نے اس کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے أَيْنَجْعَلُ أَمْرَكُمْ مُطَاعًا كَمَا يُطَاعُ أَمْرُ رَبِّ الْعَالَمِينَ (تفسیر ابن کثیر، جلد6، صفحہ150)۔ یعنی، ہم تمھارے حکم کی اطاعت اس طرح کرتے رہے جس طرح رب العالمین کے حکم کی اطاعت کی جاتی ہے۔ وہ لوگ جو دنیا میں اپنے لیڈروں کی بات کو خدا کی بات کی طرح مانتے تھے وہ آخرت میں اپنے لیڈروں کو خود اپنی زبان سے مجرم کہیں گے۔ مگر اس کا انھیں کوئی فائدہ نہیں ملے گا۔ کیوں کہ مجرم اور حق پرست کو پہچاننے کی جگہ دنیا تھی ،نہ کہ آخرت۔