Tazkirul Quran, Qur’an 27:1–6
The Ants (Al-Naml)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
جب آدمی کے سامنے حق آئے اور وہ کسی تحفظ کے بغیر اس کا اعتراف کرلے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ فوراً صحیح رخ پر چل پڑتاہے۔ اس کی زندگی ہر اعتبار سے درست ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس کے برعکس، جوشخص اپنے آپ کو حق کے مطابق ڈھالنے کے لیے تیار نہ ہو وہ مجبور ہوتاہے کہ خود حق کو اپنے مطابق ڈھالے۔اسی نفسیاتی کیفیت کادوسرا نام تزئینِ اعمال ہے۔
ایسا آدمی اپنی روش کو جائز ثابت کرنے کے لیے خود ساختہ دلیلیں تلاش کرتاہے۔ یہ دلیلیں دھیرے دھیرے اس کے ذہن پر اس طرح چھا جاتی ہیں کہ وہ اس کو عین درست معلوم ہوتی ہیں۔ اپنا غلط عمل اس کو اپنی جھوٹی توجیہات کی روشنی میں صحیح نظر آنے لگتا ہے۔
جو لوگ دعوتٍ حق کے بارے میں سنجیدہ نہ ہوں وہ ہمیشہ تزئینِ اعمال کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگ عین اپنی نفسیات کے نتیجہ میں اپنی اصلاح کی طرف سے بالکل غافل ہوجاتے ہیں۔ اپنے غلط کو صحیح سمجھنے کی انھیں یہ بھاری قیمت دینی پڑتی ہے کہ وہ ایسے راستے پر چلتے رہیں جس کی آخری منزل جہنم کے سوا اور کچھ نہیں۔