Tazkirul Quran, Qur’an 27:27–35
The Ants (Al-Naml)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
حضرت سلیمان کی قوت وسلطنت ایک خدائی عطیہ تھی۔ اسی طرح آپ نے سبا کی حکومت کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ بھی ایک خدائی معاملہ تھا۔ شاہ عبدالقادر دہلوی آیت 37 کے ذیل میں لکھتے ہیں ’’اور کسی پیغمبر نے اس طرح کی بات نہیں فرمائی۔ سلیمان کو حق تعالیٰ کی سلطنت کا زورتھا جو یہ فرمایا‘‘۔
ملکہ سبا (بلقیس) نے معاملہ کو خالص حقیقت پسندانہ انداز سے دیکھا۔ اس نے یہ رائے قائم کی کہ اگر ہم سلیمان کی طاقت سے ٹکرائیں تو زیادہ امکان یہ ہے کہ ہم ہاریں گے اور پھر ہمارے ساتھ وہی کیا جائے گا جو ہر غالب قوم مغلوب قوم کے ساتھ کرتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر ہم اطاعت قبول کرلیں تو ہم تباہی سے بچ جائیں گے۔ تاہم ملکہ نے ابتدائی اندازوں کے لیے تحفے بھیجنے کا طریقہ اختیار کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ سلیمان ہماری دولت کے خواہش مند ہیں یا اس سے آگے ان کا ہم سے کوئی اصولی مطالبہ ہے۔
حضرت سلیمان نے ملکہ سبا سے سیاسی دست برداری کا مطالبہ کیا ۔ ملکہ سبا نے اِس مطالبے کو مان لیا۔ کیوں کہ مطالبہ نہ ماننے کی صورت میں ذلت اور فساد کا اندیشہ تھا ، جب کہ مطالبہ ماننے کی صورت میں قومِ سبا کے تمام تجارتی مفادات بدستور محفوظ رہتےتھے۔ ملکۂ سبا کی اِس روش کو قرآن میں ایک مثبت روش کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ گویا کہ اِس روش کو قرآن کی کھلی ہوئی تائید حاصل ہے۔ اِس سے یہ اصول ملتا ہے کہ کسی وقت دست برداری سے اگر ایک بڑا فائدہ ملتا ہو تو اس دست برداری کو قبول کر لینا چاہیے۔
کوئی قوم جب زوال کا شکار ہوجاتی ہے تو ان کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی نادانی سے ’’ملوک‘‘کو اپنی بستی میں داخل ہونے کا موقع دیتے ہیں اور جب وہ داخل ہوکر وہ ’’اس کو خراب کردیتے ہیں اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کردیتے ہیں ‘‘تو اس کے بعد وہ لوگ شور کرتے ہیں کہ دیکھو ، یہ ہمارے اوپر ظلم کر رہے ہیں ۔ حالانکہ قرآن کی رہنمائی یہ ہے کہ ملوک کے لشکر کو اس کا موقع ہی نہ دو کہ وہ تمہاری بستیوں میں داخل ہو کر ظلم وفساد کرنے لگے۔ لوگوں کی تو جہ ظلم پر ہے ۔ جب کہ قرآن یہ چاہتا ہے کہ ظلم کے سبب پر ساری توجہ دی جائے ۔