Tazkirul Quran (Urdu) · The Ants (Al-Naml)

Tazkirul Quran, Qur’an 27:76–81

The Ants (Al-Naml)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

وقت گزرنے پر ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ مختلف معاملات میں حقیقی دین گم ہوجاتا ہے، اور طرح طرح کے منحرف (deviated) نقطۂ نظر دین کے نام سے رائج ہوجاتے ہیں ۔ اس وقت اللہ کی توفیق سے ایک فہم و بصیرت والا آدمی اٹھتا ہے۔ وہ ہر معاملہ میں صحیح دینی نقطۂ نظر کا اعلان کرتا ہے۔ یہ کام بذریعہ قرآن اہل کتاب کے درمیان انجام پایا، اور یہی کام ختم نبوت کے بعد ، حدیث ِ رسول کے مطابق، علمائے حق کے ذریعہ امت محمدی میں جاری رہے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس علم کے حامل ہر نسل میں اس کے عادل لوگ ہوں گے، جو اس کو محفوظ رکھیں گے غلو کرنے والوں کی تحریف سے (تَحْرِيفَ الْغَالِينَ )، اہل باطل کے انحراف سے ، اور کم علم لوگوں کی غلط تاویلات سے (شرح مشکل الآثار، حدیث نمبر3884)۔

انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو آنکھ، کان اور دماغ کی صلاحیتیں رکھتا ہے۔ ان صلاحیتوں کو اگر کھلے طریقے سے استعمال کیا جائے تو وہ بے خطا طورپر حقیقتوں کو دیکھنے اور پہچاننے کا ذریعہ بن سکتی ہیں ۔ لیکن اگر کوئی شخص اپنے آپ کو کسی مصنوعی تصور سے مغلوب کرلے تو اس کی ادراک کی صلاحیتیں معطل ہو کر رہ جاتی ہیں ۔ اس کے سامنے حقیقت بے نقاب صورت میں آتی ہے مگر وہ اس سے اس طرح بے خبر رہتا ہے جیسے کہ وہ اندھا بہرا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں اسی شخص کو راستہ دکھایا جاسکتا ہے جو راستہ دیکھنا چاہے۔ جس کے اندر خود راستہ کی تڑپ نہ ہو اس کے لیے کسی رہنما کی رہنمائی کام آنے والی نہیں ۔حق پرست بننے کے لیے سب سے زیادہ جو چیز درکار ہے وہ اعتراف ہے۔ اس دنیا میں اسی شخص کو ہدایت ملتی ہے جس کے اندر یہ مادہ ہو کہ جو بات دلائل سے واضح ہو جائے وہ فوراً اس کو مان لے اور اپنی زندگی کو اس کی ماتحتی میں دے دے۔جو لوگ خدا کی دعوت کے آگے نہ جھکیں ۔ انھیں آخر کار خدا کے فیصلے کے آگے جھکنا پڑتا ہے۔ مگر اس وقت کا جھکنا کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں ۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page