Tazkirul Quran (Urdu) · The Story (Al-Qasas)

Tazkirul Quran, Qur’an 28:25–28

The Story (Al-Qasas)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

لڑکیاں اس دن معمول سے کچھ پہلے گھر پہنچ گئیں والد نے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ آج ایک مسافر نے ہماری بکریوں کو پہلے ہی پانی پلا دیا۔لڑکیوں کے والد نے کہا کہ پھر تم اس مسافر کو گھر کیوں نہ لائیں کہ وہ ہمارے ساتھ کھانا کھائے۔ چنانچہ ایک لڑکی دوبارہ کنویں پر گئی اور حضرت موسیٰ کوبلا کر لے آئی۔

چند دن کے تجربے نے بتایا کہ حضرت موسیٰ محنتی بھی ہیں اور امانت دار بھی۔ چنانچہ مذکورہ بزرگ نے اپنی بیٹی کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے حضرت موسیٰ کو اپنے یہاں مستقل خدمت کے لیے رکھ لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں صفات، امانت اور قوت (honesty & hard working) تمام ضروری صفات کی جامع ہیں۔ آدمی کے انتخاب کے لیے معیار مقرر کرنا ہو تو ان دولفظوں سے بہتر کوئی معیار نہیں ہوسکتا۔بعد کو مذکورہ بزرگ نے اپنی ایک لڑکی کی شادی بھی حضرت موسیٰ سے کردی۔ تاہم چوں کہ اس وقت انھیں اپنے گھر اور جائداد کی دیکھ بھال کے لیے ایک مرد کی شدید ضرورت تھی، انھوں نے حضرت موسیٰ کو اس پر آمادہ کیا کہ وہ آٹھ سال یادس سال تک ان کے یہاں قیام کریں۔ اس کے بعد وہ جہاں جانا چاہیں جاسکتے ہیں۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page