Tazkirul Quran, Qur’an 28:33–38
The Story (Al-Qasas)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
خدا جب کسی کو اپنی دعوت کے کام پر مامور کرتا ہے تو لازمی طورپر اس کو وہ تمام اسباب بھی دیتاہے جو کارِ دعوت کی مؤثر ادائیگی کے لیے ضروری ہیں۔ چنانچہ حضرت موسیٰ کو ان کے حالات کے لحاظ سے متعدد چیزیں دی گئیں۔ آپ کو ماموریت کی سند کے طورپر خارقِ عادت معجزے عطا کیے گئے۔ آپ کو مدد گار دیا گیا جو اعلان حق کے کام میں آپ کا معاون ہو۔ آپ کو شخصی ہیبت دی گئی تاکہ فرعون کی قوم آپ پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ کرے۔ خداکی طرف سے یہ مقدر کردیا گیا کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھیوں (بنی اسرائیل) ہی کو آخری غلبہ حاصل ہو۔
ایک شخص اپنے کو بڑا سمجھتاہو، اس کے سامنے ایک بظاہر معمولی آدمی آئے اور اس پر براہِ راست تنقید کرے تو وہ فوراً بپھر اٹھتا ہے۔ وہ اس کا استہزا کرتاہے اور اس کا مذاق اڑانے کے لیے طرح طرح کی باتیں کرتا ہے۔ یہی اس وقت فرعون نے حضرت موسیٰ کے مقابلہ میں کیا۔
’’میں اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا‘‘— کوئی سنجیدہ جملہ نہیں ہے۔ ان الفاظ سے فرعون کا مقصود بیانِ حقیقت نہیں بلکہ تحقیر موسیٰ ہے۔ اسی طرح فرعون نے جب اپنے وزیر ہامان سے کہا کہ پختہ اینٹ تیار کرکے ایک اونچی عمارت بناؤ تاکہ میں آسمان میں جھانک کر موسیٰ کے خدا کو دیکھوں، تو یہ کوئی سنجیدہ حکم نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ واقعۃً وہ اپنے وزیر کے نام ایک تعمیری فرمان جاری کررہا ہے۔ یہ صرف حضرت موسیٰ کا استہزا تھا، نہ کی فی الواقع تعمیر مکان کا کوئی حکم۔