Tazkirul Quran, Qur’an 29:53–55
The Spider (Al-‘Ankabut)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
انسان کے اعمال ہی اس کی جنت ہیں اور انسان کے اعمال ہی اس کی دوزخ۔ ایک شخص جوانکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہو، اس کی زندگی کو اگر اس کے معنوی انجام کے اعتبار سے دیکھنا ممکن ہو تو نظر آئے گا کہ اس کے برے اعمال اس کو عذاب بن کر گھیرے ہوئے ہیں۔ اور صرف اتنی سی دیر ہے کہ موت آئے اور اس کو اس کی بنائی ہوئی دنیا میں ڈال دے۔
انسان کی بہت سی سرکشی صرف اپنی حقیقت سے بے خبری کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اگر اس کی یہ بے خبری ختم ہوجائے تو اچانک وہ بالکل دوسرا انسان بن جائے۔
ہجرت ایک اعتبار سے طریقِ کار کی تبدیلی ہے۔ یہ تبدیلی کبھی مقام عمل بدلنے کی صورت میں ہوتی ہے، جیسے مکہ کوچھوڑ کر مدینہ جانا۔ کبھی میدان عمل بدلنے کی صورت میں ہوتی ہے، جیسے صلح حدیبیہ کے ذریعے جنگ کے میدان سے ہٹ کر دعوت کے میدان میں آنا۔
ان آیات میں مکہ کے اہل ایمان سے کہاگیا کہ مکہ کے لوگ اگر تم کو ستاتے ہیں تو تم مکہ کوچھوڑ کر دوسرے علاقہ میں چلے جاؤ اور وہاں اللہ کی عبادت کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ صبر اور توکل کا مطلب عبادت پر جمنا ہے، نہ کہ دشمن سے ٹکراؤ پر جمنا۔ اگر ہر حال میں دشمن سے ٹکراتے رہنا مقصود ہوتا تو ان سے کہا جاتا کہ مخالفین سے لڑتے رہو اور وہاں سے کسی حال میں قدم باہر نہ نکالو۔