Tazkirul Quran, Qur’an 30:28–29
The Romans (Al-Rum)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
ایک مشترک مال یا جائداد ہو تو اس میں اس کے تمام شرکاء کا حق ہوتاہے اور ہر شریک کو دوسرے شریک کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے۔ مگرخدا کا معاملہ اس قسم کا معاملہ نہیں۔ خدا تنہا تمام کائنات کا مالک ہے۔ خداکےلیے صحیح مثال آقا اور غلام کی ہے، نہ کہ شرکاء جائداد کی۔ خدا اور اس کی مخلوقات کے درمیان زیادہ بڑے پیمانے پر وہی نسبت ہے جو ایک آقا اور ایک غلام کے درمیان پائی جاتی ہے۔ کوئی شخص اپنے غلام یا نوکر کو اپنے برابر کا درجہ نہیں دیتا۔ اسی طرح کائنات میں کوئی بھی نہیں ہے جس کو خدا کے ساتھ برابری کی حیثیت حاصل ہو۔ خدا کی طرف صرف آقائی ہے اور بقیہ مخلوقات کی طرف صرف محکومی اور غلامی۔
مخلوقات کا اپنے اپنے تخلیقی نظام کا پابند ہونا بتاتا ہے کہ خدا اور مخلوقات کے درمیان صحیح نسبت آقا اور غلام کی ہے۔ اس کے سوا جو نسبت بھی قائم کی جائے گی اس کی بنیاد محض انسانی مفروضے پر ہوگی، نہ کہ کسی واقعی دلیل پر۔